یہ ہے اجماع صحابہ کا ۔حضرت عمر بھی تو یہی کہتے تھے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ والہ وسلم پھر آئیں گے۔اگر یہ استدلال کابل نہ ہوتا(اور اکامل تب ہی ہوتا جب کسی قسم کا استثناء نہ ہوتا )کیونکہ اگر حضرت عیسیؑ زندہ آسمان پر چلے گئے تھے تو انہوں نے پھر آنا تھا تو پھر یہ استدلال کیا یہ تو ایک مسخری ہوتی)تو خو حضرت عمر ہی تردید کرتے۔ حضرت ابو بکر کا فہم قرآن  جبکہ آیت میں استثنائنہ تھا اور امر واقعہ یہی تھا ۔اس لئے صحابہ نے بلا استثناء اس امر کو تسلیم کر لیا اور حضرت ابو بکر صدیقؓ  جن کو قرآن مجید کا یہ فہم ملا تھا کہ جب رسول کریم صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے یہ آیت الیوم اکملت لکم دینکم واتممت علیکم نعمتی(المائدہ:۴)پڑھی تو حضرت ابو بکر رو پڑے۔کسی نے پوچھا کہ یہ بڈھا کیوں روتا ہے،تو آپ نے کہا کہ مجھے اس آیت سے پیغمبر خدا رسول اکرم صلی اللہ علیہ والہ وسلم کی وفات کی بو آتی ہے۔انبیاء علیہم السلام بطور حکام کے ہوتے ہیں۔جیسے بندوبست کا ملازم جب اپنا کام کر چکتا ہے،تو وہاں سے چل دیتا ہے۔اسی طرح انبیاء علیہم السلام جس کام کے واسطے دنیا میں آتے ہیں،جب اس کو کر لیتے ہیں تو پھر وہ اس دنیا سے رخصت ہو جاتے ہیں۔پس جب اکملت لکم دینکم کی صدا پہنچی تو حضرت ابو بکر نے سمجھ لیا کہ یہ آخری صدا ہے۔اس سے صاف معلوم ہوتا ہے کہ حضرت ابوبکر کا فہم بہت بڑا ہوا تھا اور یہ جو احادیث میں آیا ہے کہ مسجد کی طرف سب کھڑکیاں بند کی جاویں،مگر ابو بکر کی کھڑکی مسجد کی طرف کھلی رہے گی۔اس میں یہی سر ہے کہ مسجد چونکہ مظہر اسرار الہی ہوتی ہے اس لئے حضرت ابو بکر صدیق کی طرف یہ دروازہ بند نہیں ہوگا۔انبیاء علیہم السلام استعارت اور مجازات سے کام لیتے ہیں۔جو شخص خشک ملاؤںکی طرح یہ کہتا ہے کہ نہیں ظاہر ہی ظاہر ہوتا ہے۔وہ سخت غلطی کرتا ہے۔مثلاً حضرت ابراہیم علیہ السلام کا اپنے بیٹے سے یہ کہنا کہ یہ دہلیز بدل دے یا آنحضرت صلی اللہ علیہ والہ وسلم کا سونے کے کڑے دیکھنا وغیرہ امور اپنے ظاہری معنوں پر نہیں تھے بلکہ استعارہ اور مجاز کے طور پر تھے،ان کے اندر ایک اور حقیقت تھی۔ غرض مدعا یہی تھی کہ حضرت ابو بکرؓ کو فہم قرآن سب سے زیادہ دیا گیا تھا۔اسی لئے ابو بکر نے یہ استدلال کیا۔میرا تو یہ مذہب ہے کہ اگر یہ معنی بظاہر معارض بھی ہوتے۔تب بھی تقویٰ اور دیانتداری کا تقاضا تو یہ تھا کہ ابو بکرؓ ہی کی مانتے۔مگر یہاں تو ایک لفظ بھی قرآن مجید میں ایسا نہیں ہے،جو حضرت ابو بکر کے معنوں کا معارض ہو اب مولویوں سے پوچھو کہ ابو بکرؓ دانشمند تھا کہ نہیں؟کیا وہ ابو بکر نہ تھا جو صدیق کہلایا؟کیا یہی وہ شخص نہیں جو سب سے پہلے خلیفہ رسول اللہ کا بنا؟جس نے اسلام کی بہت بڑی خدمت کی کہ خطرناک ارتداد کی وبا ء کو روک دیا۔اچھا اور باتیں جانے دو۔یہی بتاو کہ حضرت ابو بکر کو منبر پر چڑھنے کی ضرورت کیا پیش آئی تھی۔پھر تقویٰ سے یہ بتاو کہ انہوں نے جو ما محمد الا رسول قد خلت من قبلہ الرسل(آل عمران:۱۴۵)پڑھا تو اس سے استدلال تام کرنا تھا یا ایسا ناقص کہ ایک بچہ بھی کہہ سکتا کہ عیسیٰؑ کو موتی سمجھنے والا کافر ہوجاتا ہے۔