۳-کلام الہٰی پر ایمان  لیکن اس کے سوا تیسری قسم تقویٰ کی ہے ویؤمنون بما انزل الیک (البقرہ:۵) انسان قوتِ شہادت کا محتاج ہے۔ ایسی  راہ اختیار نہ کرے کہ پاک شہادتوں سے دُور ہو۔ وُہ راہ خطرناک راہ ہے۔ جس میں راستبازوں کی شہادتیں موجود نہیں ہیں۔ تقویٰ کی راہ یہی ہے کہ جس میں زبردست شہادتیں ہر زمانہ میں زندہ موجود ہیں۔مثلاً تم نے راہ پوچھا کسی نے کہا کہ فلاں طرف جاتا ہے،مگر دس کہتے ہیں کہ نہیں یہ تو فلاں طرف جاتا ہے،تو اب تقویٰ کا تقاضا یہ ہے کہ ان بھلے مانس آدمیوں کی بات مان لو۔یہ یاد رکھو کہ شہادت پاکبازوں کی ہی مقبول اور موذون ہوتی ہے۔بد معاشوں کی پہادت کبھی بھی مقبول نہیں ہوسکتی۔یہ تیسری قسم تقویٰ کی ہے جو یومنون بما انزل الیک میں بیان ہوئی ہے۔اس کو چھوڑ کر بھی بہت لوگ خراب ہوتے ہیں۔ہمارے ساتھ جو لوگوں نے مخالفت کی ہے،تو اسی وجہ سے انہوں نے تقویٰ کی اس قسم کو چھوڑ دیا ہے۔  وفات مسیح  خدا تعالیٰ کا کلام تیس آیتوں میں ہمارا موید ہے۔کبھی وہ یا عیسیٰ انی متوفیک(آل عمران:۵۶)کہہ کر کبھی فلما توفیتنی کہہ کر کبھی محمد الا رسول قد خلت من قبلہ الرسل(آل عمران:۱۴۵)کہہ کر۔غرض کبھی کسی پیرایہ میں،کبھی کسی سورت میں پکار پکار کر کہہ رہا ہے کہ یہی راہ سچی ہے۔جس پر ہم بفضلہ تعالیٰ قائم ہیں اور اسی پر رسول کریم صلی اللہ علیہ والہ وسلم حضرت مسیح کو حضرت یحییٰ ؑ کے ساتھ معراج میں دیکھتے ہیں۔اور یہ پکی بات ہے کہ ان دونوں میں کوئی خاص فرق جو زندہوں اور مردوں میں ہونا چاہیے،انہیںبتایا کہ کبھی آنحضرت صلی اللہ علیہ والہ وسلم ان کی عمر بتا کر شہادت دیتے تھے کہ وہ مر گیا اور کبھی آنے ولاے مسیح موعود اور اسرائیلی مسیح کا حلیہ جدا جدا بتا کر سمجھاتے ہیں کہ وہ مر گیا۔یہ شہادتیں تو حدیث اور قرآن کی ہیں۔ان کے علاوہ تمام صحابہ کی شہادت آنحضرت صلی اللہعلیہ والہ وسلم ہی کی وفات پر یہ ہوئی کہ سب نبی مر گئے۔حضرت عمر نے رسول کریم صلی اللہ علیہ والہ وسلم کی نسبت کہا کہ ابھی نہیں مرے اور تلوار کھینچ کر کھڑے ہو جاتے ہیں،مگر حضرت ابو بکر صدیق ؓ کھڑے ہو کر یہ خطبہ پڑھتے ہیں کہ ما محمد الا رسول قد خلت من قبلہ الرسل(آل عمران:۱۴۵) اب اس موقعہ پر جوایک قیامت ہی کا میدان تھا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اس دنیا سے رخصت ہو چکے ہیں اور کل صحابہؓ جمع ہیں۔یہاں تک کہ اسامہ کا لشکر بھی روانہ نہیں ہوا۔حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے کہنے پر حضرت ابو بکر ؓبآواز بلند کہتے ہیںکہ محمد رسول اللہ کی وفات ہو گئی ہے اور اس پر استدال کرتے ہیں ما محمد الا رسول سے۔اب اگر صحابہؓ کے وہم گمان میں بھی حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی زندگی ہوتی تو ضرور بول اٹھتے،مگر سب خاموش ہو گئے اور بازاروں میںیہ آیت پڑھتے تھے کہ گویا یہ آیت آج اتری ہے۔ معاذ اللہ صحابہ ؓ نہ تھے جو وہ حضرت ابو بکر صدیق ؓ کے رعب میں آکر خاموش ہو رہے اور حضرت ابو بکر کی تر دید نہ کی۔نہیں ،اصل،بات یہی تھی جو حضرت ابو بکر صدیق نے بیان کی۔اس لئے سب نے گردن جھکا لی۔