انجیل کی ناقابلِ عمل تعلیم  مَیں ابھی بتاچکا ہوں کہ قرآن شریف کی تعلیم حکیمانہ نظام اپنے اندر رکھتی ہے۔ اس کے بالمقابل انجیل کی تعلیم کو دیکھو کہ ایک گال پر طمانچہ کھا کر دوسری پھر دے وغیرہ وغیرہ۔کیسی قابلِ اعتراض ہے کہ اس کی پردہ پوشی نہیں ہوسکتی اور اس کی تمدنی صورت ممکن ہی نہیں ہے۔ یہاں تک کہ بڑے سے بڑا نرم خود اور تقدس مآب پادری بھی اس تعلیم پر عمل نہیں کرسکتا۔ اگر کوئی انجیلؔ کی اس تعلیم کا عملی ثبوت لینے کے لئے کسی پادری صاحب کے مُنہ پر طمانچہ مارے ، تو وہ بجائے اس کے کہ دوسری گال پھیرے۔ پولیس کے پاس دوڑا جاوے گا اور اس کو حکام کے سُپرد کرادے گا۔ اس سے صاف معلوم ہوتاہے کہ انجیل معطل پڑی ہے اورقرآن شریف پر عمل ہورہا ہے ۔ ایک مفلس اور نادار بڑھیا بھی جس کے پاس ایک جو کی روٹی کا ٹکڑا ہے۔ اس ٹکڑے میں سے ایک حصہ دے کر مما رزقنا ھم میں داخل ہوسکتی ہے۔ لیکن انجیل کی طمانچہ کھاکر گال پھیرنے کی تعلیم میں مقدس سے مقدس پادری بھی شامل نہیں ہوسکتا۔  بہ ہیں تفاوتِ راہ از کُجاست تابکجا انجیل تو اس پہلو میں یہاں تک گری ہوئی ثابت ہوتی ہے کہ اور تو اور خود حضرت مسیح بھی اس پر پورا عمل نہ دکھا سکے۔ اور وہ تعلیم جو خود پیش کی تھی، علی پہلو میں اُنہوں نے ثابت کردیا کہ وُہ کہنے ہی کے لئے ہے؛ ورنہ چاہیے تھا کہ اس سے پیشتر کہ وُہ گرفتار ہوئے خود اپنے آپ کو دشمنوں کے حوالے کردیتے اور دُعائیں مانگنے اور اضطراب ظاہر کرنے کی ضرورت ہی کیا تھی۔ اس سے نہ صرف یہ ثابت ہوتا کہ وہ جو کچھ کہتے ہیں، کرکے بھی دکھاتے ہیں۔ بلکہ یہ بھی ثابت ہوجاتا کہ وہ کفارہ ہی کے لئے آئے ہیں۔ کیونکہ اگر اُن کی زندگی کا یہی کام تھا کہ وہ خود کشی کے طریق سے دُنیا کو نجات دیں اور بقول عیسائیوں کے خدابجز اس صورت کے نجات ہی نہیں دے سکتا تھا، تو اُن کو چاہیے تھا کہ جس کام کے لئے وہ بھیجے گئے تھے وہ تو یہی تھ اپھر وعظ اور تبلیغ کی ضرورت ہی کیا تھی؟ کیوں نہ آتے ہی یہ کہہ دیا کہ مجھے پکڑو اور پھانسی دے دو۔ تاکہ دُنیا کی رُستگاری ہو۔ قرآنی تعلیم انسانی قویٰ کی تکمیل کرتی ہے غرض قرآن شریف کی تعلیم ثابت کرتی ہے کہ اللہ تعالیٰ حکیم ہے اور ذرہ  ذرہ اس کے آگے ہے اور اس نے ایسی تعلیم دی ہے، جو انسانی قویٰ کی تکمیل کرتی ہے اور عفو اور انتقام کو محل اور موقع پر رکھنے کے واسطے اس سے بڑھ کر تعلیم نظر نہیں آئے گی۔ اگر کوئی اس تعلیم کے خلاف اور کچھ پیش کرتا ہے تو وہ گویا قانونِ الہٰی کو درہم برہم کرنا چاہتا ہے۔ بعض طبائع طبعاً عفو چاہتی ہیں اور بعض مار کھانے کے قابل ہوتی ہیں۔ سب عدالتیں قرآن شریف کی تعلیم کے موافق کھلی رہ سکتی ہیں۔ اگر انجیل کے موافق کریں تو آج ہی سب کچھ بند کرنا پڑے اور پھر دیکھو کہ کیا نتیجہ نکلتا ہے۔ انسان انجیلی تعلیم پر عمل کرہی نہیں سکتا۔ پس یہ دو نمونے علمی اور عملی تقویٰ کے ہوتے ہیں۔