اس تعلیم پرعمل کریں تو نہ صرف اُن کے پاس ضروریات ِ زندگی بسر کرنے کو کچھ رہے اور نہ کوئی آرام کی صورت۔ کیونکہ جو کچھ اُن کے پاس ہوکوئی مانگ لے، تو پھر اُن کے پاس کیا رہ جاوے؟ اگر محنت مزدوری سے کمان چاہیں ، تو کوئی بیگار میں لگادے۔ غرض اس تعلیم پر زور تو بہت دیا گیا ہے اور پادریوں کو دیکھا ہے کہ وُہ بازاروں میں اس تعلیم کی بڑے شدومد سے تعریف کرکے وعظ کرتے ہیں، لیکن جب عمل پوچھوتو کچھ نہیں۔ گویا بگفتن ہی سب کچھ ہے۔ کرنے کے واسطے کچھ نہیں۔ اس لیے اس کا نام اخلاق نہیں ہے۔ اخلاق یہ ہے کہ تمام قویٰ کو جو اللہ تعالیٰ نے دیئے ہیں برمحل استعمال کیا جاوے۔ مثلاً عقل دی گئی ہے اور کوئی دوسرا شخص جس کو کسی امر میں واقفیت نہیں اس کے مشورہ کا محتاج ہے اور یہ پوری واقفیت رکھتاہے تو اخلاق کا تقاضا یہ ہوناچاہیے کہ اپنی عقلِ سلیم سے اس کو پوری مدد دے اور اس کو سچا مشورہ دے۔ لوگ ان باتوں کو معمولی نظر سے دیکھتے ہیں اور کہہ دیتے ہیں کہ ہمار ا کیا بگڑتا ہے۔ اس کو خراب ہونے دو۔ یہ شیطانی فعل ہے۔ انسانیت سے بعید ہے کہ وہ کسی دوسرے کو بگڑتا دیکھے اور اُس کی مدد کے لئے تیار نہ ہو۔ نہیں بلکہ چاہیے کہ نہایت توجہ اور دلدہی سے اس کی بات سُنے اور اپنی عقل و سمجھ سے اُس کو ضروری مدددے۔ لیکن اگر کوئی یہاں یہ اعتراض کرے کہ مما رزقناھم کیوں فرمایا مما کے لفظ سے بخل کی بو آتی ہے۔ چاہیے تھا کہ  ہرچہ داری خرچ کن درراہِ اُو اصل بات یہ ہے کہ اس سے بخل ثابت نہیں ہوتا ۔ قرآن شریف خدائے حکیم کا کلام ہے۔حکمت کے معنی ہیں۔ شے راہ برمحل داشتن ۔ پس ممارزقناھم میں اسی امر کی طرف اشارہ ہے کہ محل اور موقع کو دیکھ کر خرچ کرو۔ جہاں تھوڑا خرچ کرنے کی ضرورت ہے، وہاں تھوڑا خرچ کرو۔جہاں بہت خرچ کرنے کی ضرورت ہے۔ وہاں بہت خرچ کرو۔ عفو  اب مثلاً عفو ہی ایک اخلاقی قوت ہے۔ اس کے لئے یہ دیکھنا ضروری ہے کہ آیا عفو کے لائق ہے یا نہیں ۔ مجرم دو قسم کے ہوتے ہیں۔ بعض تو اس قسم کے ہوتے ہیں کہ اُن سے کوئی حرکت ایسی سرزد ہوجاتی ہے جو غصہ تو دلاتی ہے لیکن وہ معافی کے قابل ہوتے ہیں اور بعض ایسے ہوتے ہیں کہ اگر اُن کی کسی شرارت پر چشم پوشی کی جاوے اور اُن کو معاف کردیاجائے تو وہ زیادہ دلیر ہوکر مزیدنقصان کا باعث بنتے ہیں۔مثلاً ایک خدمتگار ہے جو بڑا نیک اور فرماں بردار ہے۔ وہ چائے لایا۔اتفاق سے اُس کو ٹھوکر لگی اور چائے کی پیالی گر کر ٹوٹ گئی اور چائے بھی مالک پر گر گئی اگر وہ اُس کو مارنے کے لئے اُٹھ کھڑا ہواور تیز اور تُند ہوکر اُس پر جاپڑے، تو یہ سفاہت ہوگی۔ یہ عفو کا مقام ہے، کیونکہ اس نے عمداً شرارت نہیں کہ ہے اور عفو اس کو زیادہ شرمندہ کرتا اور آئندہ کے لئے محتاط بناتا ہے، لیکن اگر کوئی ایسا شریر ہے کہ وہ ہر روز توڑتا ہے اور یوں نقصان پہنچاتا ہے ، تو اس پر رحم یہی ہوگا کہ اُس کو سزادی جائے۔ پس یہی حکمت ہے مما رزقنا ھم ینفقون میں ہر ایک مومن اپنے نفس کا مجتہد ہوتا ہے ۔وُہ محل اور موقع کی شناخت کرے اور جس قدر مناسب ہوخرچ کرے۔