وساوس اور شبہات سے پریشان نہ ہو۔ابتدائی حالت میں شکوک و شبہات سے ایک ایک جنگ ضرور ہوتی ہے۔ اس کاعلاج یہی ہے کہ نہ تھکنے والے استقلال اور صبر کے ساتھ لگارہے ہیں اور خداتعالیٰ سے دُعائیں مانگتا رہے آخر وہ حالت پیدا ہو جاتی ہے جس کا میں نے ابھی ذکر کیا ہے۔ یہ تقویٰ عملی کا ایک جزوہے۔ انفاقِ رزق اور دُوسری جزو اس کی مما رزقنا ھم ینفقون (البقرہ:۴) ہے کہ جو کچھ دے رکھا ہے ا سمیں سے خرچ کرتے ہیں عام لوگ رزق سے مراد اشیاء خوردنی لیتے ہیں ۔یہ غلط ہے جو کچھ قویٰ کو دیا جاوے وہ بھی رزق ہے۔ علوم و فنون وغیرہ معارف حقائق عطاہوتے ہیں۔ جسمانی طور پر معاش مال میں فراخی ہو۔ سب رزق ہے۔ رزق میں حکومت بھی شامل ہے اور اخلاقِ فاضلہ بھی رزق ہی میں داخل ہیں یہاں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ جو کچھ ہم نے دیا ہے اُس میں خرچ کرتے ہیں یعنی روٹی میں سے روٹی دیتے ہیں۔ علم میں سے علم اور اخلاق میں سے اخلاق علم کا دینا تو ظاہر ہی ہے۔ بُخل  یہ یادرکھو کہ وہی بخیل ہیں ہے جو اپنے مال میں سے کسی مستحق کو کچھ نہیں دیتا بلکہ وہ بھی بخیل ہے جس کو اللہ تعالیٰ نے علم دیا ہو اور وہ دوسروں کو سکھانے میں مضائقہ کرے۔ محض اس لیے اپنے علوم وفنون سے کسی کو واقف نہ کرنا کہ اگر وہ سیکھ جاوے گا، تو ہماری بے قدری ہوجاوے گی یا آمدنی میں فرق آجائے گا، شرک ہے، کیونکہ اس صورت میں وہ اس علم یا فن کو ہی اپنا رازق اور خدا سمجھتا ہے۔ اسی طرح پر جو اپنے اخلاق سے کام نہیں لیتا ، وہ بھی بخیل ہے۔ اخلاق کا دینا یہی ہوتا ہے کہ جو اخلاقِ فاضلہ اللہ تعالیٰ نے محض اپنے فضل سے دے رکھے ہیں، اُس کی مخلوق سے اُن اخلاق سے پیش آوے۔ وہ لوگ اس کے نمونہ کو دیکھ کر خود بھی اخلاق پیدا کرنے کی کوشش کریں گے۔ خلق کی تعریف  اخلاق سے اس قدر ہی مراد نہیں ہے کہ زبان کی نرمی اور الفاظ کی نرمی سے کام لے۔ نہیں بلکہ شجاعت، مروت ، عفت جس قدر قوتیں انسان کو دی گئی ہیں۔ دراصل سب اخلاقی قوتیں ہیں، اُن کا برمحل استعمال کرناہی اُن کو اخلاقی حالت میں حالت میں لے آتا ہے۔ ایک موقع مناسب پر غضب کا استعمال بھی اخلاقی رنگ اختیار کرلیتا ہے۔ یہ نہیں کہ انجیل کی طرح ایک ہی پہلو اپنے اندر رکھتی ہے کہ ایک گال پر طمانچہ کھا کردوسری پھیردو۔ یہ اخلاق نہیں ہے اور نہ یہ تعلیم حکمت کے اُصول پر مبنی ہوسکتی ہے اگر ایسا ہو تو تمام فوجوں کا موقوف کردینا اور ہرقسم کے آلات حرب کو توڑ دینا لازم آئے گا اور مسیح دُنیا کو بطور ایک خدام کے رہنا پڑے گا، کیونکہ اگر کوئی کرتہ مانگے، تو چغہ بھی دینا پڑے گا۔ ایک کوس بیگارلے جانا چاہے ، تو دو کوس جانے کا حکم ہے۔ پھر عیسائی لوگوں کو کس قدر مشکلات پیش آئیں اگر وہ