کہ ہمارارب اللہ ہے۔سو یہ ضرورت تھی کہ تلوار اٹھائی گئی۔والاحضرت کبھی تلوار نہ اٹھاتے۔ہاں ہمارے زمانہ میں ہمارے برخلاف قلم اٹھائی گئی ہے،قلم سے ہم کو اذیت دی گئی اور سخت ستایا گیا، اس لیے اس کے مقابل پر قلم ہی ہمارا حربہ ہے۔ جماعت کے لیے نصیحت میںباربار کہہ چکا ہوں کہ جس قدر کوئی شخص قرب حاصل کرتا ہے، اسی قدر مواخذاکے قابل ہے اہلیت زیادہ مواخذہ کے لائق تھے۔وہ لوگ جو دورہیں،وہ قابل مواخذہ نہیں ،لیکن تم میں ضرور ہو۔ان پر کوئی ا یمانی زیادتی نہیں،تو تم میں اوران میں کیا فرق ہوا۔تم ہزاروںکے زیر نظر ہو۔و ہ لوگ گورنمنٹ کے جاسوسوں کی طرح تمہاری حرکات وسکنات کو دیکھ رہے ہیں۔وہ سچے ہیں۔جب مسیحؑ کے ساتھی صحابہ کے ہمدوش ہونے لگے ہیں،تو کیا آپ و یسے ہیں؟جب آپ لوگ ویسے نہیں،تو قابل گرفت ہیں۔گویہ ابتدائی حالت ہے،لیکن موت کا کیا اعتبار ہے،موت ایک ایسا ناگزیرامرہے جو شخص کو پیش آتا ہے جب یہ حالت ہے،توپھر آپ کیوں،غافل ہیں۔جب کوئی شخص مجھ سے تعلق نہیں رکھتا،تو یہ امر دوسرا ہے،لیکن جب میرے پاس آئے۔میرادعوی قبول کیا اور مجھے مسیح مانا،تو گویا من وجہ آپ نے صحابہ کرام کے ہمدوش ہونے کا دعوی کر دیا۔تو کیا صحابہ نے کبھی صدق ووفا پر قدم مارنے سے دریغ کیا۔ان میں کوئی کسل تھا۔کیا وہ دل آزاد تھے؟ کیا ان کو اپنے جذبات پر قابو نہ تھا؟کیاوہ منکسر المزاج نہ تھے،بلکہ ان میں پر لے درجہ کا انکسار تھا۔سو دعا کرو کہ اللہ تعالی تم کو بھی ویسی ہی توفیق عطا کرے،کیونکہ تذلل اور انکساری کی زندگی کوئی شخص اختیار نہیں کر سکتا جب تک کہ اللہ تعالی اس کی مدد نہ کرے اپنے آپ کو ٹٹولو اور اگر بچہ کی طرح اپنے آپ کو کمزور پائو،تو گھبرائو نہیںاھدناالصر اط المستقیم کی دعا صحابہ کی طرح جاری رکھو۔راتوں کو اٹھواور دعا کرو کہ اللہ تعالی تم کو اپنی راہ دکھلائے۔آنحضرت صلی اللہ علیہ والہ وسلم کے صحابہ نے بھی تدریجاتربیت پائی۔وہ پہلے کیا تھے۔ایک کسان کی تخمریزی کی طرح تھے۔پھرآنحضرت صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے آبپاشی کی۔آپ نے ان کے لیے دعائیںکیں۔بیج صحیح تھا اور زمین عمدہ تو اس آبپاشی سے پھل عمدہ نکلا جسطرح حضور علیہ اسلام چلتے اسی طرح وہ چلتے۔وہ دن کا یارات انتظار نہ کرتے تھے۔تم لوگ سچے دل سے توبہ کرو،تہجدمیں اٹھو،دعا کرو،دل کو درست کرو۔کمزوریوں کوچھوڑ دو اور خداخدا تعالی کی رضا کے مطابق اپنے قول فعل کوبنائو ۔یقین رکھو کہ جو اس نصیحت کو وروبنائے گا اور عملی طور سے دعا کرے گا اور عملی طور پر التجا خدا کے سامنے لائیگا۔اللہ تعالی اس پر فضل کرے گا اور اس کے دل میں تبدیلی ہو گی۔خدا تعالی سے ناامیدمت ہو۔ ع برکرمیاںکا رہا دشوار نیست بعض لوگ کہتے ہیں کہ ہم کو کیا کوئی ولی بننا ہے؟افسوس انھوں نے کچھ قدرنہ کی بیشک انسان نے (خدا کا)ولی بننا ہے۔اگر وہ صراط مستقیم پر چلے گا،تو خدا بھی اس کی طرف چلے گا اور پھر ایک جگہ پر اس کی ملاقات ہو گی۔اس کی طرف حرکت خواہ آہستہ ہو گی،لیکن اس کے مقابل خدا تعالی کی حرکت بہت جلد ہو گی،چنانچہ یہ آیت اسی طرف اشارہ کرتی ہے۔ والذین جاھدوافینا لنھدینھم (العنکبوت:۷۰)سوجوجو باتیں میںنے آج وصیت کی ہیں،ان کو