دکھائی جاتی ہے، جس سے دیکھنے والے کو پتہ ملتا ہے کہ اُ سکا منشاء یہ ہے ۔ ایس اہی صلوٰۃ میں منشائے الہٰی کی تصویر ہے۔ نماز میں جیسے زبان سے کچھ پڑھا جاتا ہے ویسے ہی اعضاء و جوارح کی حرکات سے کچھ دکھایا بھی جاتا ہے۔ جب انسان کھڑا ہوتا ہے اور تحمید وتسبیح کرتاہے، اس کا نام قیام رکھا گیا ہے۔ اب ہر ایک شخص جانتا ہے کہ حمدوثناء کے مناسبِ حال قیام ہی ہے۔ بادشاہوں کے سامنے جب قصائد سنائے جانتے ہیں، تو آخر کھڑے ہوکر ہی پیش کرتے ہیں۔ تو ادھر ظاہری طور پر قیام رکھا گیا ہے اور اُدھر زبان سے حمدوثنا بھی رکھی ہے۔ مظلب اس کا یہی ہے کہ روحانی طور پر بھی اللہ تعالیٰ کے حضور کھڑا ہو۔ حمد ایک بات پر قائم ہوکر کی جاتی ہے۔ جو شخص مُصدق ہوکر کسی کی تعریف کرتا ہے ، تو ایک رائے پر قائم ہوجاتاہے۔ اس الحمدللہ کہنے والے کے واسطے یہ ضروری ہوا کہ وہ سچے طور پر الحمدللہ اسی وقت کہہ سکتا ہے پورے طور پر اس کو یقین ہوجائے کہ جمیع اقسام محامد کے اللہ تعالیٰ ہی کے لئے ہیں۔ جب یہ بات دل میں انشراح کے ساتھ پیدا ہوگئی، تو یہ رُوحانی قیام ہے۔ کیونکہ دل اس پر قائم ہوجاتا ہے اور پھرسمجھا جاتا ہے کہ وہ کھڑا ہے ۔ حال کے موافق کھڑا ہوگیا، تاکہ رُوحانی قیام نصیب ہو۔ پھر رکوع میں سُبحان ربی العظیم کہتا ہے۔ قاعدہ کی بات ہے کہ جب کسی کی عظمت مان لیتے ہیں۔ تو اس کے حضور جھکتے ہیں۔عظمت کا تقاضا ہے کہ اس کے لئے رکوع کرے۔ پس سبحان ربی العظیم زبان سے کہا اور حال سے جھکنا دکھایا۔ یہ اُس قول کے ساتھ حال دکھایا۔ پھر تیسرا قول ہے سبحان ربی الاعلیٰ ۔ اعلی افعل تفضیل ہے۔ یہ بالذات سجدہ کو چاہتا ہے۔ اس لیے اُس کے ساتھ حالی تصویر سجدہ میں گرنا ہے۔ اس اقرار کے مناسب حال ہیئت فی الفور اختیار کرلی۔ اس قال کے ساتھ تین حال جسمانی ہیں۔ ایک تصویر اس کے آگے پیش کی گئی ہر ایک قسم کا قیام بھی کیاگیا ہے۔زبان پر جسم کا ٹکڑا ہے۔ اس نے بھی کہا اور وہ شامل ہوگئی۔ تیسری چیز اور ہے وہ اگر شامل نہ ہو، تو نماز نہیں ہوتی۔ وہ کیا ہے؟ وہ قلب ہے۔ اس کے لیے ضروری ہے کہ قلب کا قیام ہو۔ اور اللہ تعالیٰ اس پر نظر کرکے دیکھے کہ درحقیقت وہ حمد بھی کرتا ہے اور کھڑا بھی ہے اور روح بھی کھڑا ہوا حمد کرتا ہے جسم ہی نہیں بلکہ روح بھی کھڑا ہے اور جب سبحان ربی العظیم کہتا ہے تو دیکھے کہ اتنا ہی نہیں کہ صرف عظمت کا اقرار ہی کیا ہے۔ نہیں بلکہ ساتھ ہی جھکا بھی ہے اور اس کے ساتھ ہی روح بھی جھک گیا ہے۔ پھر تیسری نظر میں خد اکے حضور سجدہ میں گرا ہے۔ اس کی علو شان کو ملاحظہ میں لاکر اُس کے ساتھ ہی دیکھے کہ روح بھی الوہیت کے آستانہ پر گری ہوئی ہے۔ غرض یہ حالت جب تک پیدا نہ ہولے۔ اس وقت تک مطمئن نہ ہو، کیونکہ یقیمون الصلوٰۃ کے معنی یہی ہیں۔ اگر یہ سوال ہو کہ یہ حالت پیدا کیونکہ ہو، تو اس کا جواب اتنا ہی ہے کہ ماز پر مداومت کی جائے اور