ایجرأت دلادی اور اُنہوں نے تمہاری قوم کا ایک بڑا حصہ گمراہ کرڈالا۔ تمہیں کب خبر ہوگی، جب سارا گھر لُٹ چکے گا؟ تم میرے ساتھ دشمنی نہیں کرتے، مگر اپنی جانوں پر ظلم کرتے ہو۔مَیں نے کو نسی انوکھی بات کہی تھی۔مَیں تم سے کیا کچھ مانگتا ہوں۔پھر مجھ سے عداوت کی کیا وجہ؟ کیا اس لیے کہ مَیں کہتا ہوں کہ ایک ہی کامل الصفات ذات ہے جو عبادت کے قابل ہے۔ اس کے صفاتِ کسی انسان کو نہ دو۔ کیا اس لیے کہ مَیں یہ کہتا ہوں کہ دُنیا میں ایک ہی کامل انسان گزرا ہے، جس کا نام محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہے۔ کیا اس لیے کہ میں کہتا ہوں کہ مسیح کے درجات کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے درجات سے ہرگز نہ بڑھائو۔ اس لیے کہ وہ اُن صفات سے ہرگز موصُوف نہیں، جن سے تم موصوف مانتے ہو۔ خدا کے لئے سوچو! یہ یادرکھو کہ آخر مرنا ہے اور خدا کے حضور جانا ہے۔ تقویٰ کے تین مراتب  غرض بات یہ تھی کہ قرآن شریف میں ترتیب کو مدنظر رکھنا ضروری ہے اور یہ آئتیں جو مَیں نے پڑھی تھیں،اُن میں  ترتیب کو ملحوظ رکھاگیا ہے۔ یؤمنون بالغیب ویقیمون الصلوۃ ومما رزقنھم ینفقون۔(البقرہ:۴) یادرکھو اتقا تین قسم کا ہوتاہے۔ پہلی قسم اتقا کی علمی رنگ رکھتی ہے۔ یہ حالت ایمان کی صورت میں ہوتی ہے۔ دُوسری قسم عملی رنگ رکھتی ہے۔ جیساکہ یقیمون الصلوٰۃ میں فرمایا ہے۔ انسان کی وہ نمازیں جو شبہات اور وساوس میں مبتلا ہیں۔ کھڑی نہیںہوتی ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے یقرؤن نہیں فرمایا بلکہ یقیمون فرمایا۔ یعنی جو حق ہے اُس کے ادا کرنے کا ۔ سُنو! ہر ایک چیز کی ایک علت غائی ہوتی ہے۔ اگر اس سے رہ جاوے تو وہ بے فائدہ ہوجاتی ہے۔ مثلاً ایک بیل جو قلبہ رانی کے واسطے خریدہ گیا ہے۔ اپنے منصب پر اُس وقت قائم سمجھا جاوے گا، جب وہ کر کے دکھادے، لیکن اگر اس کی غرض و غایت کھانے پینے ہی تک محدو ر رہے ، تو اپنی علت غائی سے دُور ہے اور اس قابل ہے کہ اُس کو ذبح کیا جاوے۔ اقامتِ صلوٰۃ  اسی طرح یقیمون الصلوۃ میں لوازم الصلوٰۃ معراج ہے۔ اور یہ وُہ حالت ہوتی ہے کہ اللہ تعالیٰ سے تعلق شروع ہوتا ہے۔ مکاشفات اور رویاء صالحہ آتے ہیں۔ لوگوں سے انقطاع ہوتا جاتا ہے اور خدا کی طرف ایک تعلق پید اہونے لگتا ہے۔ یہاں تک کہ تبتل تام ہوکر خدا میں جاملتا ہے۔ صلی جلنے کو کہتے ہیں۔ جیسے کباب بُھونا جاتا ہے، اسی طرح نماز میں سوزش لازمی ہے۔ جب تک دل بریان نہ ہو نماز میں لذت اور سُرور پیدا نہیں ہوتا۔ اور اصل تو یہ ہے کہ نماز ہی اپنے سچے معنوں میں اُسی وقت ہوتی ہے۔ نماز میں شرط ہے کہ وہ بجمع شرائط ادا ہو جب تک وُہ ادا نہ ہو وہ نماز نہیں ہے اور نہ وہ کیفیت جو صلوٰہ میں میلِ نماز کی ہے حاصل ہوتی ہے۔ یادرکھو صلوٰۃ میں حالؔ اورقالؔ دونوں کا جمع ہونا ضرور ی ہے۔ بعض وقت اعلام تصویری ہوتا ہے۔ ایسی تصویر