اشارہ ہے اس امر کی طرف کہ تیرے بعد ایک رُسول آئے گا جو حَکم ہوکر تیری نسبت جھگڑے کو فیصل کردے گا اور جس قدر الزامات یہودی تجھ پر لگاتے ہیں، اُن سے تجھے پاک ٹھہرائے گا۔ تین ترتیبوں کے تو یہ مخالف بھی قائل ہیں۔ یعنی رافعک الی و مطھرک من الذین کفرو وجاعل الذین اتبعوک فوق الذین کفروا۔ یہ تو مانتے ہیں کہ مرتب کلام ہے۔ اس میں جو کچھ وعدہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے، وہ پورا ہوگیا۔ جسمانی رفع کے قائل اس میں کچھ کہہ نہیں سکتے، مگر مجھے حیرت ہوتی ہے کہ جب تین ترتیبوں کے وہ قاتل ہیں اور انہیں نے اس کو تسلیم کرلیا ہے تو توفی کے لفظ کو اُٹھانے کی بے فائدہ کوشش کیوں کرتے ہیں۔ بھلا یہ یہودی طرز اختیار کر کے بتائو تو سہی اس لفظ کو رکھو گے کہاں؟ اگر رفع کے بعد رکھو تو واقعاتِ خارجہ کے خلاف ہے۔ رفع اور تطہیر میں فاصلہ نہیں ہے، بلکہ رفع کے بعد تطہیرہی ہے۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے یہودیوں کے اس الزام سے کہ وہ نبی بھی نہیں مانتے تھیا ور ملعون قراردیتے تھے اور عیسائی کہتے تھے کہ ابن اللہ اور اللہ ہیں جس کو آسمان پراُٹھایا گیا اور وُہ ہمارے لئے ملعون ہوا۔حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو بَری کیا ہے۔ یہ دو انگلیوں کی طرح ہیں۔ اُن کو الگ کرسکتے ہی نہیں۔ اور جاعل الذین اتبعوک کو دیکھو، تو وہ قیامت تک مطھرک کے بعد کسی دوسرے لفظ کو آنے ہی نہیں دیتا پھر اس کو رکھو گے ، تو کہاں رکھو گے جس طرح پر واقعات ظہور میں آئے۔ اسی طرز سے بیان کیا ہے۔ اب اُلٹ پُلٹ کر کہاں رکھ سکتے ہو۔ مَیں تو کہتا ہوں کہ تمہیں خداتعالیٰ کے کلام کے ساتھ اس قدر دشمنی کیوں ہے، جو اس کی ترتیب توڑنا چاہتے ہو۔ عقیدہ حیاتِ مسیح ؑکے نقصانات کیا تم کو یہی اچھا معلوم ہوتا ہے کہ مسیح ؑ کی خدائی ثابت کرو۔ عیسائیوں کے اس مُردہ خدا کو کہیں تو  مرنے دو۔ تعجب کی بات ہے کہ ایک طرف تو تم کہتے ہو کہ ہم مسیح ؑ کو محض ایک بندہ اور نبی مانتے ہیں، دُوسری طرف اُن کی نسبت ایسے عقیدے رکھنے چاہتے ہو جو اُن کو خدا بناتے ہیں۔ اس کی وہی مثال ہے کہ ایک شخص تو کسی کی نسبت کہتا ہے کہ وُہ مرگیا، مگر دُوسرا کہتا ہے کہ نہیں مرا تو نہیں مگر نبض اُس کی نہیں چلتی۔ بذن بھی ٹھنڈا ہوگیا ہے۔ سانس بھی نہیں آتا۔ اے دانشمندو! غور تو کرو۔ اُس کے مرنے میں کیا شک رہا جس کی زندگی کا کوئی بھی اثر نہیں پایا جاتا۔ تم کہتے ہو کہ مسیح ؑ خدا نہیں۔ مگرمانتے ہو کہ وُہ آج تک زندہ ہے اور زمانہ کے اثر سے محفوظ اور لاتبدیل غیر متغیر ہے۔ تم کہتے ہو مسیح ؑ خالق نہیں، مگر مانتے ہو کہ اس نے بھی کچھ چڑیاں بنائی تھیں، جو اِن چڑیوں میں مل گئی ہیں۔ تم کہتے ہو مسیح ؑ خالق نہیں، مگر مانتے ہو کہ اس نے بھی کچھ چڑیاں بنائی تھیں، جو اِن چڑیوں میں مل گئی ہیں۔ تم کہتے ہو کہ مسیح ؑ عالمِ الغیب نہیں، مگر یہ مانتے ہو کہ وہ تمہارے کھانے پینے کی چیزوں اور تمہارے گھروں کے ذخیروں کی اطلاع دے دیتا تھا۔ بڑے شرم کی بات ہے کہ مُسلمان کہلا کر ایک خدا کو تمام صفاتِ کاملہ سے موصوف مان کر پھر اُس کی صفات ایک عاجز انسان کو دو۔ کچھ تو خدا کا خوف بھی کرو۔ یہی باتیں ہیں جنہوں نے نصاری کی قوم کو