کی تلاوت کا طریق صرف یہ رہ گیا ہے کہ دو چار سپارے پڑھ لیے اور کچھ معلوم نہیں کہ کیا پڑھا۔زیادہ سے زیادہ یہ کہ سر لگا کر پڑھ لیا اور ق اور ع کو پورے طور پر ادا کر دیا۔قرآن شریف کو عمدہ طور پر اور خوش الحانی سے پڑھنا بھی ایک اچھی بات ہے،مگر قرآن شریف کی تلاوت کی اصل غرض تو یہ ہے کہ اس کے حقائق اور معارف پر اطلاع ملے اور انسان ایک تبدیلی اپنے اندر پیدا کرے۔ نظام قرآنی اور آیت انی متوفیک کے الفاظ کی ترتیب یہ یاد رکھو کہ قرآن شریف میںایک عجیب و غریب اور سچا فلسفہ ہے۔اس میںایک نظام ہے جس کی قدر نہیں کی جاتی۔جب تک نظام اور ترتیب قرآنی کو مد نظر نہ رکھا جاوے اور اس پرپورا غور نہ کیا جاوے،قرآن شریف کی تلاوت کے اغراض پورے نہ ہوں گے۔اگر یہ لوگ جو قرآن شریف کے ق اور عین اورضاد پر لڑتے جھگڑتے ہیں اور ایک دوسرے کی تفسیق پر منہ کھولتے ہیں ۔ نظام قرآنی کی قدر کرتے،تو انی متوفیک ورافعک الی(آل عمران:۵۶)میں میرے ساتھ کیوں بر سر پر کاش ہوتے ہیں جبکہ وہ دیکھتے ہیں کہ قرآن شریف ایک ترتیب کے طور پر ان واقعات کو بیان کرتا ہے جو خارجی طور پر اپنا ایک وجود رکھتے ہیں ۔کہ اے عیسیٰ ۔میں تجھے وفات دینے والا ہوں۔سوچنا چاہیے تھا کہ یا عیسیٰ انی متوفیک ورافعک الیٰ قرآن شریف نے کہا کہ کیوں۔اس کی ضرورت کیا پیش آئی تھی؟  یہودیوں ہی سے پوچھ لیتے تو یہ پتہ لگ جاتا۔ اصل بات جس کو میں نے بار ہا بیان کیا ہے یہ ہے کہ یہود حضرت مسیحؑ کو ملعون قرار دیتے ہیں۔معاذ اللہ۔اور اس کا ثبوت وہ دیتے ہیں کہ اُنھوں نے مسیحؑ کو صلیب کے ذریعہ قتل کر دیا،مگر قرآن شریف نے اس الزام کو دور کیا اور یہود کو ملزم کیا ہے۔اللہ تعالیٰ کبھی بھی اپنے پاک بندوں کو ذلیل نہیں کرتا اور لن یجعل اللہ للکافرین علی المومنین سبیلاً۔(النساء:۱۴۲)اس کا سچا وعدہ ہے۔حضرت مسیحؑ جب صلیب پر چڑھائے گئے تو اُن کو اندیشہ ہوا کہ یہ لوگ مجھے صلیبی موت سے ہلاک کرنے کا موجب ٹھہرے ہیںاور اس طرح پر یہ *** موت ہو گی۔ اس ہلاکت کی گھڑی میں اللہ تعالیٰ نے حضرت مسیحؑ کو یہ بشارت دی کہ میں تجھے طبعی موت سے وفات دوں گا اور تیرا رفع کرنے والا ہوں اور تجھے پاک کرنے والا ہوں۔اس آیت کا ایک ایک لفظ اپنے اندر ایک حقیقت رکھتا ہے،مگر افسوس یہ لوگ کچھ بھی غور نہیں کرتے اور قرآن کریم کی ترتیب کو بدل کر تحریف کرنا چاہتے ہیں۔ کیا اللہ تعالیٰ اس بات پر قادر نہ تھا۔جو یوں کہہ دیتا کہ یا عیسی انی رافعک الی السماء۔پھرکونسی دقت اور مشکل اُس کو پیش آگئی تھی جو یا عسیٰ انی متوفیک ہی کہا۔غرض اس آیت میں جو ترتیب رکھی گئی ہے وہ واقعات کی بناء پر ہے۔وہ احمق ہے جو کہتا ہے کہ ترتیب وائو سے نہیں ہوتی۔ اگر ایسا ہی غبی ہے کہ وہ اس کو نہیں سمجھ سکتا، تو اُس کو واقعات پر نظر کرنی چاہیے اور دیکھے کہ تطہیر رفع کے بعد ہوتی ہے یا پہلے اس تطہیر میں دراصل