کے معارف اور خوبیوں پر اطلاع نہیں ملتی۔قرآن شریف میں وہ نکاتاور حقائق ہیں جو روھ کی پیاس کو بجھا دیتے ہیں۔ کاش دنیا کو معلوم ہوتا کہ روح کی لذت کس چیز میں ہے اور پھر وہ معلوم کرتی کہ وہ قرآن شریف اورصاف قرآن شریف میں موجود ہے ابدال کون ہیں دیکھو!جس جس قدر انسان تبدیلی کرتا چلا جاتا ہے،اسی قدر وہ ابدال کے زمرہ میں داخل ہوتا جاتا ہے۔حقائق قرآنی نہیںکھلتے، جب تک ابدال کے زمرے میں داخل نہ ہو۔لوگوں نے ابدال کے معنی سمجھنے میں غلطی کھائی ہے اور اپنے طور پر کچھ کا کچھ سمجھ لیا ہے۔اصل یہ ہے کہ ابدال وہ لوگ ہوتے ہیں جو اپنے اندر ایک پاک تبدیلی پیدا کرتے ہیں اور اس تبدیلی کی وجہ سے ان کے قلب گناہ کی تاریکی اور زنگ سے صاف ہو جاتے ہیں۔شیطان کی حکومت کا استیصال ہو کر اللہ تعالیٰ کا عرش ان کے دل پر ہوتا ہے۔پھر وہ روح القدس سے قوت پاتے اور خدا تعالیٰ سے فیض پاتے ہیں۔تم لوگوں کو میں بشارت دیتا ہوں کہ تم میں سے جو اپنی اندر تبدیلی کرے گا،وہ ابدال ہے۔انسان اگر خدا کی طرف قدم اٹھائے،تواللہ تعالیٰ کا فضل دوڑ کر اس کی دستگیری کرتا ہے۔یہ سچی بات ہے اور میں تمہیں بتاتا ہوں کہ چالاکی سے علوم القرآن نہیں آتے۔دماغی قوت اور ذہنی ترقی علوم کو جذب کرنے کا اکیلا باعث نہیں ہو سکتا۔اصل ذریعہ تقویٰ ہی ہے۔متقی کا معلم خدا ہی ہوتا ہے۔یہی وجہ ہے کہ نبیوں پر امت غالب ہوتی ہے۔ہمارے نبی کریم صلی اللہ علیہ والہ وسلم کو اسی لئے امی بھیجا گیا ہے اور باوجودیکہ آپ نے کسی مکتب میں تعلیم پائی اور نہ کسی کو اسرتاد بنایا۔پھر آپ نے وہ معارف اور حقائق بیان کئے جنہوں نے دنیوی علوم کے ماہروں کو دنگ اور حیران کر دیا۔قرآن شریف جیسی پاک،کامل کتاب آپ کے لبوں پر جاری ہوئی۔جس کی فصاحت وبلاغت نے سارے عرب کو خوموش کر دیا۔وہ کیا بات تھی جس کے سب سے آنحضرت صلی اللہ علیہ والہ وسلم علوم میں سے بڑھ گئے۔وہ تقویٰ ہی تھا۔رسول کریم صلی اللہ علیہ والہ وسلم کی مطہر زندگی کا اس سے بڑھ کر کیا ثبوت ہو سکتا ہے کہ قرآن شریف جیسی کتاب وہ لائے۔جس کے علوم نے دنیا کو حیران کر دیا۔ آپ کا اُمّی ہونا ایک نمونہ اور دلیل ہے اس امر کی کہ قرآنی علوم یا آسمانی علوم کے لئے تقیٰ مطلب ہے نہ دنیوی چالاکیاں۔ تلاوت قرآن کریم کی غرض غرض قرآن شریف کی اصل غرض اور غایت دنیا کو تقویٰ کی تعلیم دینا ہے۔جس کے ذریعہ سے وہ ہدایت کے منشاء کوحاصل کر سکے۔اب اس آیت میں تقویٰ کے تین مراتب کو بیان کیا ہے۔الذین یومنون بالغیب ویقیمون الصلوۃ ومما رزقنھم ینفقون(البقرہ:۴) لوگ قرآن شریف پڑھتے ہیں،مگر طوتے کی طرح یونہی بغیر سوچے سمجھے چلے جاتے ہیں۔جیسے ایک پنڈت اپنی پوتھی کو اندھا دھند پڑھتا جاتا ہے۔نہ خودسمجھتا ہے اور نہ سننے والوں کو پتہ لگتا ہے۔اسی طرح پر قرآن شریف