طبعی،فلسفہ،ہیئت وطبابت پڑھنے کے واسطے یہ ضروری امر نہیں ہے کہ وہ صوم صلوۃ کا پابند ہو اور امر الہی اور نواہی کو ہر وقت مد نظر رکھتا ہو۔اپنے ہر قول وفعل کو اللہ تعالیٰ کے احکام کے نیچے رکھے۔بلکہ بسا اوقات دیکھا گیا ہے کہ دنیوی علوم کے ماہر اور طلبگار دہریہ منش ہو کر ہر قسم کے فسوق وفجور میں مبتلا ہوتے ہیں ۔آج دنیا کے سامنے ایک زبر دست تجربہ موجود ہے۔یورپ اور امریکہ باوجودیکہ وہ لوگ ارضی علوم میں بڑی بڑی ترقیاں کر رہے ہیں اور آئے دن نئی ایجادات کرتے رہتے ہیں،لیکن ان کی روح اور اخلاقی حالت بہت ہی قابل شرم ہے۔لندن کے پارک اور پیرس کے ہوٹلوں کے حالات جو کچھ شائع ہوئے ہیں ہم تو ان کاذکر بھی نہیں کر سکتے۔مگر علوم آسمانی اور اسرار قرآنی کی واقفیت کے لئے تقویٰ پہلی شرط ہے۔اس میں توبۃ النصوح کی ضرورت ہے۔جب تک انسان پوری فروتنی اور انکساری کے ساتھ اللہ تعالیٰ کے احکام کو نہ اٹھا لے۔اور اس کے جلال و جبروت سے لرزاں ہو کر نیاز مندی کے ساتھ رجو ع نہ کرے۔قرآنی علوم کا دروازہ نہیں کھل سکتا اور روح کے ان خواص اور قویٰ کی پرورش کا سامان اس کو قرآن شریف سے نہیں مل سکتا۔جو کو پا کر روح میں ایک لذت اور تسلی پیدا ہوتی ہے۔قرآن شریف اللہ تعالیٰ کی کتاب ہے اور اس کے علوم خدا کے ہاتھ میں ہیں۔پس اس کے لئے تقویٰ بطور نرد بان کے ہے۔پھر کیونکر ممکن ہو سکتا ہے کہ بے ایمان،شریر،خبیث النفس،ارضی خواہشوں کے اسیر ان سے بہر وار ہوں۔اس واسطے اگر ایک مسلمان مسلمان کہلا کر خواہ وہ صرف و نحو،معانی وبدیع وغیرہ علوم کا کتناہی بڑا فاضل کیوںنہ ہو۔د نیا کی نظر میں شیخ الکل فی الکل بنا بیٹھا ہو،لیکن اگر تزکیہ نفس نہیں کرتا،تو قرآن شریف کے علوم سے اس کوحصہ نہیں دیا جاتا۔میں دیکھتا ہوں کہ اس وقت دنیا کی توجہ ارضی علوم کی طرف بہت جھکی ہوئی ہے اور مغربی روشنی نے تمام عالم کو اپنی نئی ایجادوں اور صنعتوں سے حیران کر رکھا ہے مسلمانوں نے بھی اگر اپنی فلاح اور بہتری کی کوئی راہ سوچی،تو بد قسمتی سے یہ سوچی ہے کہ وہ مغرب میںرہنے والوں کو اپنا امام بنا لیں اور یورپ کی تقلید پر فخر کریں۔یہ تو نئی روشنی کے مسلمانوں کا حال ہے۔جو لوگ پرانے فیشن کے مسلمان کہلاتے ہیں اور اپنے آپ کو حامی دین متین سمجھتے ہیں۔ان کی ساری عمر کی تحصیل کا خلاصہ اورلب لباب یہ ہے کہ صرف ونحو کے جھگڑوں اور الجھیڑوں میں پھنسے ہوئے ہیں اور ضالین کے لفظ پر مٹے ہیں۔قرآن شریف کی طرف بالکل توجہ ہی نہیں اور ہو کیو نکر جبکہ وہ تزکیہ نفس کی طرف متوجہ نہیں ہوتے۔
ہاں اگر ایک گروہ ایسا بھی ہے جو تزکیہ نفس کے دعوے کرتا ہے ۔وہ صوفیوں اور سجادہ نشینوں کا گروہ ہے،مگر ان لوگوں نے قرآن شریف کو تو چھوڑ دیا ہے اور اپنے ہی طریق اختراع کر لئے ہیں۔کوئی چلہ کشیاں کرتا ہے۔کوئی لا الہ کے نعرے مارتا ہے۔کوئی نفی اثبات۔توجہ ۔حبس دم وغیرہ میں مبتلا ہے۔غرض ایسے طریق نکالے ہیں جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ والہ وسلم سے ثابت نہیں ہوتے اور نہ قرآن کریم کا یہ منشا ء ہے اور نہ کبھی نبوت سلسلہ نے ایسے طریقوں کو پسند کیا۔غرض یہ یاد رکھنا چاہیے کہ جب تک انسان ایک پاک تبدیلی نہیں کرتا اور نفس کا تزکیہ نہیں کرتا،قرآن شریف