بھی زبان کا کھولنا سخت گنا ہ ہے۔ قرآن کریم کی علت غائی تقویٰ ہے پھر دیکھو کہ تقویٰ ایسی اعلی درجہ کی ضروری شے قرار دیا گیا ہے۔کہ قرآن کریم کی علت غائی اسے ہی قرار دیا گیا ہے؛چنانچہ دوسری سورۃ کو جب شروع کیا ہے،تو یوں ہی فرمایا ہے:الم ذلک الکتاب لا ریب فیہ ھدیٰ للمتقین(البقرہ:۲۔۳)میرا مذہب یہی ہے کہ قرآن کریم کی یہ ترتیب بڑا مرتبہ رکھتی ہے۔خدا تعالیٰ نے اس میں علل اربعہ کا ذکر فرمایا ہے۔علت فاعلی،مادی،صوری،غائی۔ہر ایک چیز کے ساتھ یہ چار علل ہوتی ہیں۔قرآن کریم نہایت اکمل طور پر ان کو دکھاتا ہے۔الم اس میں یہ اشارہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے جو بہت جاننے والا ہے۔اس کلام کو حضرت رسول کریم صلی اللہ علیہ والہ وسلم پر نازل کیا ہے۔یعنی خدا اس کا فاعل ہے۔ذلک الکتب یہ مادہ بتایا۔یا یہ کہو کہ علت مادی ہے۔علت صوری لاریب فیہ ہر ایک چیز میں شک وشبہ اور ظنون فاسدپیدا ہو سکتے ہیں۔مگر قرآن کریم ایسی کتاب ہے جس میں کوئی لاریب فیہ نہیں ہے۔لاریب اس کے لئے ہے۔اب جبکہ اللہ تعالیٰ نے اس کتاب کی شان یہ بتائی ہے کہ لاریب فیہ۔تو ہر ایک سلیم فطرت اور سعادت مند انسان کی روح اچھلے گی اور خواہش کرے گی کہ اس کی ہدایتوں پر عمل کیا جائے۔ہم افسوس سے کہتے ہیں کہ قرآن مجید کی اجلی اور اصفیٰ شان کو دنیا کے سامنے پیش کیا جاتا؛ورنہ قرآن شریف کی خوبیاں اور اس کے کمالات،اس کاحسن اپنے اندر ایک ایسی کشش اور جزب رکھتا ہے کہ بے اختیار ہوہو کر دل اس کی طرف چلے آئیں۔مثلاً ایک خوشنما باغ کی تعریف کی جائے اور اس کی خوشبودار درختوں اور تروتازہ کرنے والی بوٹیوں اور روشوں اور مصفا پانی کی بہتی ہوئی ندیوں اور نہروں کا تذکرہ کیا جاوے،تو ہر ایک شخص کادل چاہے گا کہ اس کی سیر کرے اور اس سے حظ اٹھائے۔اور اگر یہ بھی بتا دیا جائے کہ اس میں بعض چشمے ایسے ہیں جو امراض مزمنہ اور مہلکہ کو شفا دیتے ہیں تو بھی زیادہ جوش اور طلب کے ساتھ لوگ وہاں جائیں گے۔اسی طرح پر قرآن شریف کی خوبیوں اور کمالات کو اگرنہایت خوبصورت اور موثر الفاظ میں بیان کیا جاوے، تو روح پورے جوش کے ساتھ اس کی طرف دوڑتی ہے۔ قرآنی علوم کے انکشاف کے لئے تقویٰ شرط ہے اور حقیقت میں روح کی تسلی اور سیری کا سامان اور وہ بات جس سے روح کی حقیقی احتیاج پوری ہوتی ہے۔قرآن کریم میں ہی ہے۔اس لئے اللہ تعالیٰ نے فرمایا ھدیً للمتقین اور دوسری جگہ کہا لا یمسہ الاامطھرون(الواقعۃ:۸۰)اس سے مراد وہی متقین ہیںجوھدی للمتقین میں بیان ہوئے ہیں۔اس سے صاف طور پر معلوم ہو ا کہ قرآنی علوم کے انکشاف کے لئے تقویٰ شرط ہے۔علوم ظاہری اور علوم قرآنی کے حصول کے درمیان ایک عظیم الشان فرق ہے۔دینوی اور رسمی علوم کے حاصل کرنے کے واسطے تقویٰ شرط نہیں ہے۔صرف ونحو۔