سے دور ہو جاتا ۔اس لئے ساتھ ہی ایاک نستعین کی تعلیم دے دی کے یہ مت سمجھو کہ یہ عبادت جو میں کرتا ہوں اپنی طاقت اور قوت سے کرتا ہوں،ہر گز نہیں،بلکہ اللہ تعالیٰ کی استعانت جب تک نہ ہو اور خود وہ پاک ذات جب تک توفیق اور طاقت نہ دے،کچھ بھی نہیں ہو سکتا اور پھر ایاک اعبد یا ایاک استعین نہیں کہا۔اس لئے اس میں تقدم کے نفس کی بو آتی تھی اور یہ تقویٰ کے خلاف ہے۔تقویٰ والا کل انسان کو لیتا ہے۔زبان ہی سے انسان تقویٰ سے دور چلا جاتا ہے۔زبان سے تکبر کر لیتا ہے اور زبان ہی سے فرعونی صفات آجاتی ہے اور اسی زبان کی وجہ سے پوشیدہ اعما ل کو ریا کاری سے بدل لیتا ہے اور زبان کا ریاء بہت جلد پیدا ہو جاتا ہے۔حدیث شریف میں آیا ہے کہ ناف کے نیچے کے عضو اور زبان کو شر سے بچاتا ہے اس کی بہشت کا ذمہ دار میں ہوں۔حرام خوری اس قدر نقصان نہیں پہنچاتی۔جیسے قول زور۔اس سے کوئی یہ نہ سمجھے کہ حرام خوری اچھی چیز ہے۔یہ سخت غلطی ہے،اگر کوئی ایسا سمجھے۔میرا مطلب یہ ہے کہ کوئی شخص جو اضطراراً سور کھا لے،تو یہ امر دیگر ہے۔لیکن اگر وہ اپنی زبان سے خنزیر کا فتویٰ دے دے تو وہ اسلام سے دور نکل جاتا ہے۔اللہ تعالیٰ کے حرام کو حلال ٹھہراتا ہے۔غرض اس سے معلم ہوا کہ زبان کا زیان خطرناک ہے۔اس لئے متقی اپنی زبان کو بہت ہی قابو میں رکھتا ہے۔اس کے منہ سے کوئی ایسی بات نہیں نکلتی،جو تقویٰ کے خلاف ہو۔پس تم اپنی زبان پر حکومت کرو،نہ یہ کہ زبانیں تم پر حکومت کریں اور اناپ شناپ بولتے رہو۔
ہر ایک بات کہنے سے پہلے سوچ لو کہ اس کا نتیجہ کیا ہوگا۔اللہ تعالیٰ کی اجازت اس کے کہنے میں کہاں تک ہے۔جب تک یہ نہ سوچ لو مت بولو۔ایسے بولنے سے جو شرارت کا باعث اور فساد کا موجب ہو،نہ بولنا بہتر ہے،لیکن یہ بھی مومن کی شان سے بعید ہے کہ امر حق کے اظہار میں رکے۔اس وقت کسی ملامت کرنے والے کی ملامت اور خوف زبان کو نہ روکے۔دیکھو ہمارے نبی کریم صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے جب اپنی نبوت کا اعلان کیا،تو اپنے پرائے سب کے سب دشمن ہو گئے۔لیکن آپ نے ایک دم بھر کے لئے بھی کسی کی پرواہ نہیں کی۔یہاں تک کہ جب ابو طالب آپ کے چچا نے لوگوں کی شکایتوں سے تنگ آکر کہا۔اس وقت بھی آپ نے صاف طور پر کہہ دیا کہ میں اس کے اظہار سے نہیں رک سکتا۔آپ کا اختیار ہے، میرا ساتھ دیں یہ نہ دیں۔
پس زبان کو جیسے خدا تعالیٰ کی رضامندی کے خلاف کسی بات کہنے سے روکنا چاہیے۔اسی طرح امر حق کے اظہار کے لئے کھولنا ضروی ہے۔یامرون ابالمعروف وینھون عن المنکر(آل عمران:۱۱۵)مومنوں کی شان ہے۔امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کرنے سے پہلے ضروری ہوتا ہے کہ انسان اپنی عملی حالت سے ثاببت کر دکھائے کہ وہ اس قوت کو اپنے اندر رکھتا ہے کیونکہ اس سے پیشتر کہ وہ دوسروں پر اپنا اثر ڈالے اس کو اپنی حالت اثر انداز بھی تو بنانی ضروری ہے۔پس یاد رکھو کہ امر بالمعروف اور نہی عن المنکر سے کبھی مت روکو۔ہاں محل اور موقعہ کی شناخت بھی ضروری ہے اور انداز بیان ایسا ہو نا چاہیے جو نرم ہو اور سلاست اپنے اندر رکھتا ہو اور ایسا ہی تقویٰ کے خلا ف