وہ ایک سعیر اور سلاسل واغلال میں جکڑے ہوئے ہیں۔جیسے فرمایا ہے۔انا اعتدنا للکفرین سلا سلا واغلالاًو سعیراً(الدھر:۵)وہ نیکی کی طرف آہی نہیں سکتے۔وہ ایسے اغلال ہیں کہ اللہ کی طرف ان اغلال کی وجہ سے ایسے دبے پڑے ہیں کہ حیوانوں اور بہائم سے بھی بد تر ہو جاتے ہیں۔ان کی آنکھ ہر وقت دنیا ہی کی طرف لگی رہتی ہے۔اور زمین کی طرف جھکتے جاتے ہیں۔پھر اندر ہی اندر ایک سوزش اور جلن بھی لگی ہوئی ہوتی ہے۔اگر مال میں کمی ہو جائے یا حسب مراد تدبیر میں کامیاب نہ ہو تو کڑھتے اور جلتے ہیں۔یہاں تک کے بعض اوقات سودائی اور پاگل ہو جاتے ہیں۔یا عدالتوں میں مارے مارے پھرتے ہیں۔یہ واقعی بات ہے کہ بے دین آدمی سعیر سے خالی نہیں ہوتا،اس لئے کہ اس کو قرار اور سکون نصیب نہیں ہوتا،جو راحت اور تسلی کا لازمی نتیجہ ہے۔جیسے شرابی ایک جام شراب پی کر ایک اور مانگتا ہے اور ایک جلن سی لگی رہتی ہے۔ایسا ہی دنیا دار بھی سعیر میں ہے۔اس کی آتش آز ایک دم بھی بجھ نہیں سکتی۔سچی خوشحالی حقیقت میں ایک متقی ہی کے لئے ہے۔جس کے لئے اللہ تعالیٰ نے وعدہ فرمایا ہے کہ اس کے لئے دو جنت ہیں۔ سچی خوشحالی متقی سچی خوشحالی ایک جھونپڑی میں پا سکتا ہے،جو دنے ادر اور حرص وآز کے پرستار کو رفیع الشان قصر میں بھی نہیں مل سکتی۔جس قدردنیا زیادہ  ملتی ہے،اسی قدر بلائیں زیادہ سامنے آجاتی ہیں۔پس یاد رکھو کہ حقیقی راحت اور لذت دنیادر کے حصے میں نہیں آتی۔یہ مت سمجھو کہ مال کی کثرت عمدہ عمدہ لباس اور کھانے کسی خوشی کا باعث ہو سکتے ہیں۔ہر گز نہیں،بلکہ اس کا مدار ہی تقویٰ پر ہے۔ زبان کی حفا ظت جبکہ ساری باتوں سے معلوم ہو گیا ہے کہ سچے تقویٰ کے بغیر کوئی راحت اور خوشی مل ہی نہیں سکتی،تو معلوم کرنا چاہیے کہ تقویٰ کے بہت سے شعبے ہیں۔جو عنکبوت کے تاروں کی طرح پھیلے ہوئے ہیں۔ تقویٰ تما م جوارح انسانی اور عقائد زبان اخلاق وغیرہ سے ہیں۔نازک ترین معاملہ زبان سے ہے۔بسا اوقات تقویٰ کو دور کر کے ایک بات کہتا ہے اور دل میں خوش ہو جاتا ہے۔کہ میں نے یوں کہا اور ایسا کہا؛حالانکہ ہو بات بری ہوتی ہے۔مجھے اس پر ایک نقل یاد آئی کہ ایک بزرگ کی کسی دنیا دار نے دعوت کی۔جب وہ بزرگ کھانا کھانے کے لئے تشریف لے گئے تو اس متکبر دنیا دار نے اپنے نوکر کو کہا کہ فلاں تھال لانا جو ہم پہلے حج میں لائے تھے اور پھر کہا دوسرا تھا ل بھی لانا جو دوسرے حج میں لائے تھے اور پھر کہا کہ تیسرے حج والا بھی لیتے آنا۔اس بزرگ نے فرمایا کہ تم تو بہت ہی قابل رحم ہو۔ان تین فقروں میں تو نے اپنے تین ہی حجّوں کا ستیا ناس کر دیا۔تیرا مطلب اس امر سے صرف یہ تھا کہ تو اس امر کاظہار کرے کہ تو نے تین حج کئے ہیں۔اس لئے خدا نے تعلیم دی ہے۔کہ زبان کو سنبھال کر رکھا جائے اور بے معنی،بیہودہ،بے موقع غیر ضروری باتوں سے احتراز کیا جائے۔ دیکھو۔اللہ تعالیٰ نے ایاک نعبد کی تعلیم دی ہے۔اب ممکن تھا کہ انسان اپنی قوت پر بھروسہ کر لیتا اور خدا