کی وجہ سے کوئی ایسی دُعا کر بیٹھیں جوان کے لئے عمدہ نتائج پیدا کرنے والی نہ ہو۔ تو اللہ تعالیٰ اس دُعا کے بدلہ میں اُن کو وہ چیز عطاکرتا ہے ، جو اُن کی شے مطلوبہ کا نعم البدل ہو۔
مُتقی کون ہوتے ہیں؟
اب اس کے بعد پھر میں اصل مطلب کی طرف آتا ہوں اور بتاتا ہوں کہ متقی کون ہوتے ہیں؟
درحقیقت متقیوں کے واسطے بڑے بڑے وعدے ہیں اور اس سے بڑھ کر کیا ہوگا کہ اللہ تعالیٰ متقیوں کا ولی ہوتاہے۔ جھوٹے ہیں وہ جو کہتے ہیں کہ ہم مقربِ بارگاہ الہٰی ہیں او رپھر متقی نہیں ہیں بلکہ فسق وفجور کی زندگی بسرکرتے ہیں۔ اور ایک ظلم اور غضب کرتے ہیں جبکہ وہ ولایت اور قرابِ الہٰی کے درجہ کو اپنے ساتھ منسوب کرتے ہیں، کیونکہ اللہ تعالیٰ نے اس کے ساتھ متقی ہونے کی شرط لگا دی ہے۔
نصرت
پھر ایک اور شرط لگاتا ہے یا یہ کہو،متقیوں کا ایک نشان بتاتا ہے ان اللہ مع الذین اتقوا۔ خدا اُن کے ساتھ ہوتاہے یعنی اُن کی نصرت کرتا ہے جو متقی ہوتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ کی معیت کا ثبوت اس کی نصرت ہی سے ملتا ہے۔ پہلا دروازہ ولایت کا ویسے بند ہوا۔ اب دُوسرا دروازہ معیت اور نصرت الہٰی کا اس پر بند ہوا ۔ یادرکھو اللہ تعالیٰ کی نصرت کبھی بھی ناپاکوں اورفاسقوں کو نہیں مل سکتی۔ اس کاانحصار تقویٰ ہی پر ہے۔ خداکی اعانت متقی ہی کے لئے ہے۔
معاشی وسعت
پھرایک اور راہ ہے کہ انسان مشکلات اور مصائب میں مبتلا ہوت اہے اور حاجات مختلف رکھتا ہے۔ اُن کے حل اور رواہونے کے لیے بھی تقویٰ ہی کو اصول قراردیا ہے۔ معاش کی تنگی اور دوسری تنگیوں سے راہِ نجات تقویٰ ہی ہے۔ فرمایا۔ من یتق اللہ یجعل لہ مخرجا ویرزقہ من حیث لایحتسب (الطلاق:۳،۴)
معاشی وسعت پھرایک اور راہ ہے کہ انسان مشکلات اور مصائب میں مبتلا ہوتاہے اور حاجات مختلف رکھتا ہے۔ اُن کے حل اور رواہونے کے لیےبھی تقویٰ ہی کو اصول قراردیا ہے۔ معاش کی تنگی اور دوسری تنگیوں سے راہِ نجات تقویٰ ہی ہے۔ فرمایا۔ من یتق اللہ یجعل لہ مخرجا ویرزقہ من حیث لایحتسب (الطلاق:۳،۴) خدا متقی کے لئے ہر مشکل میں ایک مخرج پیداکردیت اہے اور اس کو غیب سے اُس سے مخلصی پانے کے اسباب بہم پہنچادیتاہے۔ اُس کو ایسے طور سے رزق دیتا ہے کہ اُس کو پتہ بھی نہ لگے۔
اب غور کرکے دیکھ لو کہ انسان اس دُنیا میں چاہتا کیا ہے۔ انسان کی بڑی سے بڑی خواہش دنیا میں یہی ہے کہ اس کو سُکھ اور آرام ملے او راُس کے لئے اللہ تعالیٰ نے ایک ہی راہ مقرر کی ہے جو تقویٰ کی راہ کہلاتی ہے اور دوسرے لفظوں میں اُس کو قرآن کریم کی راہ کہتے ہیں اور یا اس کا نام صراط مستقیم رکھتے ہیں۔
کفار کے مال ودولت کوئی یہ نہ کہے کہ کفار کے پاس بھی مال ودولت اور املاک ہوتے ہیں اور وہ اپنی عیش و عشرت میں مہمک اور مست رہتے ہیں۔مَیں تمہیں سچ کہتا ہوں کہ وہ دنیا کی آنکھ میں بلکہ ذلیل دنیا داروں اور ظاہر پرستوں کی آنکھ میں خوش معلوم دیتے ہیں، مگر حقیقت میں وہ ایک جلن اور دکھ میں مبتلا ہوتے ہیں۔تم نے ان کی صورت کو دیکھا ہے مگر میں ایسے لوگوں کے قلب پر نگاہ رکھتا ہوں۔