چوری کی جاوے ۔تو پتہ بھی نہ لگے۔ خیر یہ تو جملہ معترضہ تھا۔ دکھانا یہ منظور ہے کہ باوجود ان تمام سہولتوں کے کوئی اصلاح نہ ہو سکی۔ پطرس کو بہشت کی کنجیاں تو مل جاویں، لیکن وہ اپنے استاد کو *** دینے سے نہ روک سکے۔
اب اس کے مقابلہ میں انصا فاً دیکھا جاوے کہ ہمارے ہادی اکمل کے صحابہ نے اپنے خدا اور رسول کے لئے کیا کیا جان نثار ریاں کیں ۔جلا وطن ہوئے، ظلم اٹھائے، طرح طرح کے مصائب برداشت کیے ،جانیں دیں۔ لیکن صدق ووفا کے ساتھ قدم مارتے ہی گئے۔ پس وہ کیا بات تھی کہ جس نے انہیں ایسا جان نثار بنا دیا ۔وہ سچی الہی محبت جوش تھا۔ جس کی شعاع ان کے دل میں پڑ چکی تھی ،اس لئے خوا ہ کسی نبی کے ساتھ مقابلہ کر لیا جاوے ۔آپ کی تعلیم تزکیہ نفس اپنے پیرووں کو دنیا سے متنفر کر ادینا۔ شجاعت کے ساتھ صداقت کے لئے خون بہادینا ۔اس کی نظیر کہیں نہ مل سکے گی۔ یہ مقام آنحضرت صلی اللہ علیہ والہ وسلمکے صحابہ کا ہے اور ان میں جو باہمی الفت ومحبت تھی ۔اس کا نقشہ دو فقروں میں بیان فرماہے :الف بین قلوبھم لو انفقت مافی الارض جمیعا ما الفت بین قلوبھم(الانفال:۶۴)یعنی جو تالیف ان میںہے وہ ہرگز پیدا نہ ہوتی،خوا ہ سونے کا پہاڑبھی دیا جاتا۔ا ب ایک اور جماعت مسیح موعودؑکی ہے جس نے اپنے اندر صحابہ کا رنگ پیدا کرنا ہے۔صحا بہ کی تو وہ پاک جماعت تھی۔جس کی تعریف میں قرآن شریف بھرا پڑاہے۔کیا آ پ لوگ ایسے ہیں،جب خداکہتا ہے کہ حضرت مسیحؑ کے ساتھ وہ لوگ ہوںگے،جو صحابہ کے دوش بدوش ہوں گے۔صحابہ تو وہ تھے جنھوں نے اپنا مال،اپناوطن راہ حق میں دیدیااور سب کچھ چھوڑ دیا۔ حضرت صدیق اکبررضی اللہ عنہ کا معاملہ اکثر سنا ہو گا۔ ایک دفعہ جب راہ خدا میں مال دینے کا حکم ہوا،تو گھر کا کل اثاثہ لے آئے۔جب رسول کریم صلی اللہ علیہ والہ وسلمنے دریافت کیا کہ گھر میںکیا چھوڑآئے،توفرمایا کہ خدااور رسول کو گھر چھوڑ آیاہوں۔رئیس مکہ ہوااور کمبل پوش،غرباء کا لباس پہنے۔یہ سمجھ لو کہ وہ لوگ تو خدا کی راہ میں شہیدہو گئے۔ ان کے لیے تو یہی لکھا ہے کہ سیفوں(تلواروںکے نیچے بہشت ہے،لیکن ہمارے لیے تو اتنی سختی نہیں،کیونکہ یضع الحرب ہمارے لیے آیا ہے،یعنی مہدی کے وقت لڑا ئی نہیں ہو گی۔
جہاد کی حقیقت
اللہ تعالی بعض مصائح کے رو سے ایک فعل کرتا ہے اور آئندہ جب وہ فعل معرض اعتراض ٹھہرتا ہے،تو پھر وہ فعل نہیں کرتا۔اولاًہمارے رسول کریم صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے کوئی تلوار نہ اٹھائی مگر ان کوسخت سے تکالیف برداشت کرنی پڑیں ۔تیرہ سال کا عرصہ ایک بچہ کو بالغ کرنے کے لئے کافی ہے اورحضرت مسیح کی معیاد تو اگر اس معیاد میںسے دس نکال دیں تو پھر بھی کافی ہوتی ہے ۔غرض اس لمبے عرصہ میں کوئی یا کسی رنگ کی تکلیف نہ تھی جو اٹھانی نہ پڑی ہو ،آخر کار وطن سے نکلے تو تعاقب ہوا ۔دوسری جگہ پناہ لی تو دشمن نے وہاں بھی نہ چھوڑا۔ جب یہ حالت ہوئی تو مظلوموں کا ظالموں کے ظلم سے بچانے کے لئے حکم ہوا ۔اذن للذین یقاتلون با نھم ظلمو وان اللہ علی نصر ھم لقدیر۔الذین اخرجوامن دیارھم بغیر حق الا ان یقولواربنا اللہ(الحج۴۰۔۴۱) کہ جن لوگوںکے ساتھ لڑائیاں خواہ مخواہ کی گئیں اور گھروں سے نا حق نکالے گئے،صرف اس لیے کہ انھوں نے کہا