ہمارے سامنے رکھا ہے اور جو ہمیں دکھایا ہے۔ یہ محض سراب اور دھوکا ہے۔ ایسا وہم بھی انسان کو ہلاک کرسکتا ہے نہیں۔ بلکہ ہر ایک اس خزانہ کو لے سکتا ہے اور اللہ تعالیٰ کے یہاں کوئی کمی نہیں۔ وہ ہر ایک کو یہ خزانے دے سکتا ہے پھر بھی اس میں کمی ہیں آسکتی۔
غرض وہ تو ہم کو نبوت کے کمالات تک دینے کو تیار ہے،، لیکن ہم اس کے لئے کی بھی سعی کریں۔ پس یادرکھو کہ یہ شیطانی وسوسہ اور دھوکہ ہے جو اس پیرایہ میں دیا جاتا ہے کہ دُعا قبول نہیںہوتی۔ اصل یہی ہے کہ وہ دعا قبولیت کے آداب اور اسباب سے محض خالی ہے۔ پھرآسمان کے دروازے اس کے لئے نہیں کھلتے۔ سُنو!قرآن شریف نے کیا کہا ہے۔ انما یتقبل اللہ من المتقین (المائدہ:۲۸) اللہ تعالیٰ متقیوں کی دُعائیںقبول کرتا ہے۔ جو لوگ متقی نہیں ہیں ، ان کی دُعائیں قبولیت کے لباس سے ننگی ہیں۔ہاں اللہ تعالیٰ کی ربوبیت اور رحمانیت ان لوگوں کی پرورش میں اپنا کام کررہی ہے۔
متقی کی بعض دعائوں کے حسبِ منشاء پورا نہ ہونے کی حکمت
دُعائوں کی قبولیت کا فیض ان لوگوں کو ملتا ہے ، جومتقی ہوتے ہیں۔ اب میں بتاؤں گا کہ متقی کون ہوتے ہیں۔ مگرابھی میں ایک اور شبہ کا ازالہ کرنا ضروری سمجھتا ہوں اور وہ یہ ہے کہ بعض لوگ جو متقی ہوتے ہیں۔ بظاہر اُن کی بعض دعائیں اُن کے حسب منشاء پوری نہیں ہوتی ہیں، یہ کیوں ہوتا ہے؟ یہ بات یادرکھنے کے قابل ہے کہ ان لوگوں کی کوئی بھی دعادرحقیقت ضائع نہیں کی جاتی ، لیکن چونکہ انسان عالم الغیب نہیں ہے اور وہ نہیں جانت اکہ اس دُعا کے نتائج اس کے حق میں کیااثر پیداکرنے والے ہیں۔ پس اللہ تعالیٰ کمال شفقت اور مہربانی سے اس دُعا کو اپنے بندہ کے لئے اس صورت میں منتقل کردیتاہے، جواس کے واسطے مفید اور نتیجہ خیز ہوتی ہے۔ جیسے ایک نادان بچہ سانپ کو ایک خوبصورت اور نرم شے سمجھ کر پکڑنے کی جرأت کرے یا آگ کو روشن دیکھ کر اپنی ماں سے مانگ بیٹھے، تو کیا یہ ممکن ہے کہ وہ ماں خواہ وہ کیسی ہی نادان سے نادان بھی کیوں نہ ہو۔ کبھی پسند کرے گی کہ اُس کا بچہ سانپ کو پکڑے یا اپنی خواہش کے موافق آگ کا ایک روشن کوئلہ اُس کے ہاتھ پر رکھ دے ؟ ہرگز نہیں۔ کیونکہ وہ جاتی ہے کہ یہ اُس کی زندگی کو گزند پہنچائے گا۔پس اللہ تعالیٰ جو عالم الغیب اور عالم الکل ہے اور مہربان ماں سے بھی زیادہ رحی کریم ہے اور ماں کے دل میں بھی یہ رأفت اور محبت اُسی نے ڈالی ہے وہ کیونکر گوارا کرسکتا ہے کہ اس کاعزیز کوفی الفور منظور کرلے۔ نہیں بلکہ وہ اس کو رَدّ کردیتا ہے اور اس کے بجائے اس سے بھی بہتر اُس کو عطاکرتا ہے اور وہ یقینا سمجھ لیتا ہے کہ یہ میری فلاں دُعا کا اثر اور نتیجہ ہے۔ اپنی غلطی پر بی اس کو اطلاع ملتی ہے۔ غرض یہ کہنا بالکل غلط ہے کہ متقیوں کی بھی بعض دُعاقبول نہیں ہوتی۔ نہیں اُن کی تو ہر دُعا قبول ہوتی ہے۔ ہاں اگر وہ اپنی کمزوری اور نادانی