صالح چوتھا درجہ صالحین کا ہے۔ جن کو موادِ رویہ سے صاف کردیا گیا ہے اور اُن کے قلوب صاف ہو گئے ہیں۔ یہ قاعدہ کی بات ہے کہ جب تک موادِ رویہ دور نہ ہوں اور سومزاج رہے، تو مزہ زبان تک کا بھی بگڑ جاتا ہے، تلخ معلوم دیتا ہے اور جب بدن میں پوری صلاحیت اور اصلاح ہو اس وقت ہر ایک شے کا اصل مزہ معلوم ہوتا ہے اور طبیعت میں ایک قسم کی لذت اور سُرور اور چستی اور چالاکی پائی جاتی ہے۔ اسی طرح پر جب انسان گناہ کی ناپاکی اور مُبتلا ہوتا ہے اور روح کا قوام بگڑ جاتا ہے تو روحانی قوتیں کمزور ہونی شروع ہوجاتی ہیں، یہانتک کہ عبادات میں مزہ نہیں رہتا۔ طبیعت میں ایک گھبراہٹ اور پریشانی پائی جاتی ہے۔ لیکن جب موادِ رویہ جوگناہ کی زندگی سے پیدا ہوئے تھے، توبۃ النصوح کے ذریعہ خارج ہونے لگیں ت وروح میں وہ اضطراب اور بے چینی کم ہونے لگتی ہے۔ یہانتک کہ آخر ایک سکون اور تسلی ملتی ہے۔ پہلے جو گناہ کی طرف قدم اُٹھانے میں راحت محسوس ہوتی تھی اور پھر اُس فعل میں جو نفس کی خواہش کا نتیجہ ہوتاتھا اور جھکنے میں خوشی ملتی تھی۔ اب اس طرف جھکتے ہوئے دکھ اور رنج معلوم ہوتا ہے۔ روح پر ایک لرزہ پڑجاتا ہے۔ اگر اس تاریک زندگی کا وہم یا تصور بھی آجائے اور پھر عبادات میں لطف، ذوق ، جوش اور شوق پیدا ہونے لگتا ہے۔ رُوحانی قویٰ جو گناہ آمیززندگی سے مردہ ہوچکے تھے، اُن کا نشوونما شروع ہوتا ہے اور اخلاقی طاقتیں اپنا ظہور کرتی ہیں۔ یہ چارچیزیں ہیں۔جن کے لئے ہر انسان دنیا میں مامور کیا گیا ہے اور اس کے حصول کے لئے دُعا ہی ایک زبردست ذریعہ ہے اور ہم کو موقع دیا گیا ہے کہ پانچ وقت اُن مراتب کو مانگیں ، لیکن یہاں ایک اور مشکل ہے کہ اگرچہ اُدعونی استجب لکم (المومن:۶۱) فرمایا اور کہا گہا ہے اُجیب دعوۃ الداع اذادعان(البقرہ:۱۸۷) اورقرآن شریف پر غور کرنے سے معلوم ہوتاہے کہ اللہ تعالیٰ دُعا ئوں کو سنتا ہے اور وہ بہت ہی قریب ہے۔ قبولیت دُعا کے آداب لیکن اگر خداتعالیٰ کی صفات اور اسماء کا لحاظ نہ کیا جائے اوردُعا کی جائے، تو وہ کچھ بھی اثر نہیں رکھتی۔ صرف اس ایک راز کے معلوم نہ ہونے کہ وجہ سے ہیں ، بلکہ معلوم نہ کرنے کی وجہ سے دُنیا ہلاک ہورہی ہے۔ مَیں نے بہت لوگوں کو کہتے سُنا ہے کہ ہم نے بہت دُعائیں کیں اور ان کا نتیجہ کچھ نہیں ہوا۔ اور اس نتیجہ نے اُن کو دہریہ بنادیا۔ بات اصل میں یہ ہے کہ ہر امر کے لیے قواعد اور قوانین ہوتے ہیں۔ ایسا ہی دُعا کے واسطے قواعد و قوانین مقرر ہیں یہ لوگ جو کہتے ہیں کہ ہماری دعاقبول نہیںہوئی، اس کا باعث یہی ہے کہ وہ ان قواعد اور مراتب کا لحاظ نہیں رکھتے جو قبولیت دُعا کے واسطے ضروری ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے جب ایک لانظیر اور بیش بہاخزانہ ہمارے سامنے پیش کیا ہے اور ہم میں سے ہر ایک اس کو پاسکتا ہے اور لے سکتا ہے۔کیونکہ یہ کبھی بھی جائز نہیں کہ ہم اللہ تعالیٰ کو قادر خدامان کر یہ تجویز کریں کہ جو کچھ اس نے