کے حضور کیونکر جاسکتا ہے۔ مثلاً خدا کی ایک صفت قدوس ہے۔پھر ایک ناپاک، غلیظ، ہر قسم کے فسق وفجور کی ناپاکی میں مبتلا انسان اللہ تعالیٰ کے حضور کیونکرجاسکتا ہے اور وہ خداتعالیٰ سے تعلق کیونکہ پیداکرسکتا ہے۔
غرض اس دُعا میں اول منعم علیہ گروہ کے کماِل مراتب کے حصول کی دُعا ہے۔ پس جب تک انسان اپنے نادرونی سلسلہ خیالات کو چھوڑ کر انا الموجود کی آواز نہ سُنے دعائوں میں لاگا رہے۔ یہ کمال تام کا درجہ ہے۔
صدیق
پھر دوسرا مرتبہ صدیق کا ہے۔ صدق کامل اس وقت تک جذب نہیں ہوتا جب تک توبۃ النصوح کے ساتھ صدق کو نہ کھینچے۔ قرآن کریم تمام صداقتوں کا مجموعہ اور صدق تام ہے۔ جب تک خود صادق نہ بنے۔ صدق کے کمال اور مراتب سے کیونکر واقف ہوسکتا ہے۔
صدیق کے مرتبہ پر قرآن کریم کی معرفت اور اس سے محبت اوراس کے نکات و حقائق پر اطلاع ملتی ہے ، کیونکہ کذب کذب کو کھینچتا ہے، اس لیے کبھی بھی کاذب قرآنی معارف اور حقائق سے آگاہ نہیں ہوسکتا۔ یہی وجہ ہے کہ لایمسہ الا المطھرون (الواقعہ:۸۰) فرمایاگیا ہے۔
شھید
پھر تیسرا مرتبہ شہید کا ہے۔ عام لوگوں نے شہید کے معنی صرف یہی سمجھ رکھے ہیں کہ جو شخص لڑائی میں مارا گیا یا دریا میں ڈوب گیا یا وبا میں مرگیا وغیرہ۔ مگر مَیں کہتا ہوں کہ اسی پر اکتفاء کرنا اور اسی حد تک اس کو محدوس رکھنا مومن کی شان سے بعید ہے۔ شہید اصل میں وہ شخص ہوتا ہے جو خداتعالیٰ سے استقامت اور سکینت کی قوت پاتاہے اور کوئی زلزلہ اور حادثہ اس کو متغیر نہیں کرسکتا۔ وہ مصیبتوں اور مشکلات میں سینہ سپر رہت اہے۔ یہانتک کہ اگر محض خداتعالیٰ کے لئے اپس کو جان بھی دینی پڑے تو فوق العادت استقلال اُس کو ملتا ہے اور وہ بدوں کسی قسم کا رنج یا حسرت محسوس کیے اپنا سررکھ دیتا ہے اور چاہتا ہے کہ باربار مجھے زندگی ملے اور بار بار اس کو اللہ کی راہ میں دوں ۔ ایک ایسی لذت اورسُرور اس کی رُوح میں ہوتا ہے کہ ہر تلوار جو اُس کے بدن پر پڑتی ہے اور ہر ضرب جو اس کو پیس ڈالے، اُس کو پہنچتی ہے۔ وہ اُس کو ایک نئی زندگی ، نئی مسرت اور تازگی عطاکرتی ہے۔یہ ہیں شہید کے معنی۔
پھر یہ لفظ شہد سے بھی نکلا ہے۔ عبادتِ شاقہ جو لوگ برداشت کرتے ہیں اور خدا کی راہ میں ہر ایک تلخی اور کدورت کو جھیلتے ہیں اور جھیلنے کے لیے تیار ہوجاتے ہیں۔ وُہ شہد کی طرح ایک شیرینی اور حلاوت پاتے ہیں اورجیسے شہد فیہ شفاء للناس (النحل:۷۰) کا مصداق ہے۔ یہ لوگ بھی ایک تریاق ہوتے ہیں۔ اُن کی صحبت میں آنے والے بہت سے امراض سے نجات پاجاتے ہیں۔
اور پھر شہید اس درجہ اور مقام کا نام بھی ہے جہاں انسان اپنے ہر کام میں اللہ تعالیٰ کو دیکھتا ہے یا کم از کم خدا کو دیکھتا ہوا یقین کرتا ہے۔ اس کا نام احسان بھی ہے۔