زندہ رسول ابدالآباد کے لئے صرف محمدرسول اللہ ؐ ہی ہیں کیابنی اسرائیل کے بقیہ یہود یا حضرت مسیح  علیہ السلام کو خُداوندخُداوند پکارنے والے عیسائیوں میں کوئی ہے جو ان نشانات میں میرا مقابلہ کرے۔میں پکار کر کہتا ہوں کہ کوئی بھی نہیں۔ایک بھی نہیں۔ پھر یہ ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی اقتداری معجزہ نمائی کی قوت کا ثبوت ہے۔کیونکہ یہ مسلم مسئلہ ہے کہ نبی متبوع کے معجزات ہی وہ معجزات کہلاتے ہیں، جو اس کے کسی متبع کے ہاتھ پر سرزد ہوں۔پس جو نشانات خوارق عادات مجھے دیئے گئے ہیں۔جو پیشگوئیوں کا عظیم الشان نشان مجھے عظا ہوا ہے۔یہ دراصل رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زندہ معجزات ہیں۔ اور کسی دوسرے نبی کے متبع کو یہ آج فخر نہیں ہے کہ وہ اس طرح پر دعوت کر کے ظاہر کر دے کہ وہ بھی اپنے اندر اپنے ہی متبوع کی قُدسی قوت کی وجہ سے خوارق دکھا سکتا ہے۔یہ فخر صرف اسلام کو ہے اور اسی سے معلوم ہوتا ہے کہ زندہ رسُول ابدالآباد کے لیے صرف محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہی ہو سکتے ہیں، جن کے انفاس طیبہ اور قوت قدسیہ کے طفیل سے ہر زمانہ میں ایک مردخدا خدانمائی کا ثبوت دیتا رہتا ہے۔ نبی کا سب سے بڑا کمال،اظہار علی الغیب غرض بات تو یہ تھی کہ اسی دُعا میںنبیوں کے کمالات سے حصہ لینے کی بھی دُعا ہے،کیونکہ منعم علیہ گروہ میںسب کا سردار انبیاء علیہم السلام کا گروہ ہے اور اُس کے کمالات میں سب سے بڑا کمال یہ ہے کہ اُن پر غیب کی باتیںجن کو پیش گوئیاںبھی کہتے ہیں،ظاہر کی جاتی ہیں۔یہ بات یاد رکھنی چاہیے کہ اس دُعا میں درحقیقت پیشگوئیاںمانگنے کی دُعا نہیں ہے۔بلکہ اس مرتبہ کے حصول کی ہی دُعا ہے جہاں پہنچ کر پیش گوئی کرتا ہے۔پیش گوئی کا مقام اللہ تعالیٰ کے اعلیٰ درجہ کے قرب کے بدوں ممکن نہیں ہے۔کیونکہ یہ وہ مقام ہوتا ہے جہاں وہ ماینطق عن الھوٰی ( النجم:۴) کا مصداق ہوتا ہے اور یہ درجہ تب ملتا ہے جب دنافتدلی (النجم:۹) کے مقام پر پہنچے۔ جب تک ظلی طور پر اپنی انسانیت کی چادر کو پھینک کر الوہیت کی چادر کے نیچے اپنے آپ کو نہ چھپائے۔ یہ مقام اسے کب مل سکتا ہے۔ یہ وہ مقام ہے جہاں بعض سلوک کی منزلوں سے ناواقف صوفیوں نے آکر ٹھوکر کھائی ہے اور اپنے آپ کو خدا سمجھ بیٹھے ہیں اور اُن کی اس ٹھوکر سے ایک خطرناک غلطی پھیلی ہے، جس نے بہتوں کو ہلاک کرڈالا اور وُہ وحدتِ وجود کا مسئلہ ہے جس کی حقیقت سے یہ لوگ ناواقفِ محض ہوتے ہیں۔ میرا مطلب صرف اسی قدر ہے کہ مَیں تمہیں یہ بتائوں کہ ماینطق عن الھوٰی کے درجہ پر جب تک انسان نہ پہنچے۔ اس وقت تک اُسے پیشگوئی کی قوت نہیں مل سکتی۔ اور یہ درجہ اُس وقت حاصل ہوتا ہے، جبکہ انسان قربِ الہٰی حاصل کرے۔ قربِ الہٰی کے لئے یہ ضرور ی بات ہے کہ تخلقوا باخلاق اللہ پر عمل ہو، کیونکہ جب تک اللہ تعالیٰ کی صفات کو ملحوظ خاطررکھ کر اُن کی عزت نہ کرے گا اور اُن کا پرتواپنی حالت اور اخلاق سے نہ دکھائے۔ وہ خدا