سے بے قرار ہوکر آستانہ الوہیت پر گرے گی اور چلائے گی اور یارب یارب کہہ کر پکارے گی۔ غور سے قرآن کریم کو دیکھو تو تمہیں معلوم ہوگا کہ پہلی ہی سورت میں اللہ تعالیٰ نے دعاکی تعلیم دی ہے۔ اھدناالصراط المستقیم صراط الذین انعمت علیھم غیر المغضوب علیھم والاالضالین۔ (الفاتحہ:۶۔۷)
دُعا تب ہی جامع ہوسکتی ہے کہ وُہ تمام منافع اور مفاد کو اپنے اندر رکھتی ہو اور تمام نقصانوں اور مضرتوں سے بچاتی ہو۔ پس اس دعا میں بہترین منافع جو ہوسکتے ہیں اور ممکن ہیں وہ اس دعا میں مطلوب ہیں اور بڑی سے بڑی نقصان رساں چیز جو انسان کو ہلاک کردیتی ہے۔ اُس سے بچنے کی دُعا ہے۔
منعم علیہ گروہ کی چار اقسام میں باربار کہہ چکا ہوں کہ منعم علیہ چار قسم کے لوگ ہیں۔ اول نبی دوم صدیق۔ سوم شہید ،چہار م صالحین۔
پس اس دُع امیں گویا ان چاروں گروہوں کے کمالات کی طلب ہے۔
نبی نبیوں کاعظیم الشان کمال یہ ہے کہ وہ خدا سے خبریں پاتے ہیں؛ چنانچہ قرآن شریف میں آیا ہے لا یظھر علی غیبہ احد الا من ارتضی من رسول (الجن : ۲۷:۲۸)
یعنی خداتعالیٰ کے غیب کی باتیں کسی دوسرے پر ظاہر نہیں ہوتیں۔ ہاں اپنے نبیوں میں سے جس کو وہ پسند کرے، جو لوگ نبوت کے کمالات سے حصہ لیتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ اُن کو قبل از وقت آنے والے واقعات کی اطلاع دیتاہے اور یہ بہت بڑ اعظیم الشان نشان خدا کے مامور اور مرسلوں کا ہوتاہے۔ اس سے بڑھ کر اور کوئی معجزہ نہیں۔ پیش گوئی بہت بڑا معجزہ ہے۔ تمام کتب سابقہ اورقرآن کریم سے یہ بات واضح طور پر ثابت ہے کہ پیشگوئی سے بڑھ کر کوئی نشان نہیںہوتا۔
آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے مستقل اور دائمی معجزات نادان اور بداندیش مخالفوں نے اس علم پر کبھی
غو رنہیں کیا۔رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے معجزات پر اعتراض کیا ہے۔ مگر افسوس ہے اُن آنکھ بند کرکے اعتراض کرنے والوں کو یہ معلوم نہ ہو اکہ جس قدر معجزات ہمارے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے ظاہر ہوئے ہیں۔ دُنیا میں کل نبیوں کے معجزات کو بھی اگر اُن کے مقابلہ میں رکھیں ، تو میں ایمان سے کہتاہوں کہ ہمارے پیغمبر خدا صلی اللہ علیہ وسلم کے معجزات بڑھ کر ثابت ہوں گے۔ قطع نظر اس بات کے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی پیشگوئیوں سے قرآن شریف بھرا پڑا ہے اور قیامت تک اور اس کے بعد تک کی پیشگوئیاں اس میں موجود ہیں۔ سب سے بڑھ کر ثبوت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی پیشگوئیوں کا یہ ہے کہ ہر زمانہ میں اُن پیشگوئیوں کا زندہ ثبوت دینے والا موجود ہوتاہے؛ چنانچہ اس زمانہ میں اللہ تعالیٰ نے مجھے طور نشان کھڑا کیا اور پیشگوئیوں کا ایک عظیم الشان نشان مجھے دیا۔ تامیں اُن لوگوں کو جو حقائق سے بے بہرہ اور معرفت الہٰی سے بے نصیت ہیں۔ روزِ روشن کی طرح دکھادُوں کہ ہمارے پیغمبر خدا صلی اللہ علیہ وسلم کے معجزات کیسے مستقل اور دائمی ہیں۔