ہے۔ پس انسان ِ اس سے دھوکہ نہ کھائے کہ مَیں بہت روت اہوں۔ اس کا فائدہ بجز اس کے اور کچھ نہیں کہ آنکھ دُکھنے آجائے گی اور یوں امراضِ چشم میں مبتلا ہوجائے گا۔
مَیں تمہیں نصیحت کرتاہوں کہ خدا کے حضور اس کی خشیت سے متاثر ہوکر رونا دوزخ کو حرام کردیتا ہے لیکن یہ گریہ وبکا نصیب نہیں ہوتا جب تک کہ خدا کو خدا اور اس کے رسول کو رسول نہ سمجھے اور اس کی سچی کتاب پر اطلاع نہ ہو نہ صرف اطلاع بلکہ ایمان۔
طبیب جیسے ایک مریض کو جُلاب دیتا ہے اور اس کو ہلکے ہلکے دست آتے ہیں۔ وہ مرض کو ضائع نہیں کرتے، جب تک جگری دست نہ آویں۔ جو اپنے سات تمام مواد، رویہ اور فاسدہ کو لے کر نکلتے ہیں اور ہر قسم کی عفونتیں اور زہریں جنہوں نے مریض کو اندر ہی اندر مضمحل اور مضطرب کررکھا تھا۔ اُن کے ساتھ نکل جاتی ہیں۔ تب اُس کو شفاہوتی ہے۔ اسی طرح پر جگری گریہ وبکا آستانہ ٔ الوہیت پر ہر ایک قسم کی نفسانی گندگیوں اور مُفسد مواد کو لے نکل جاتا ہے اور اس کو پاک صاف بنادیت اہے۔ اہل اللہ کا ایک آنسو جو توبۃ النصوح کے وقت نکلتا ہے۔ ہوا وہوس کے بندے اور رَیاکار اور ظلمتوں کے گرفتار کے ایک دریا بہادینے سے افضل اور اعلیٰ ہے، کیونکہ وُہ خدا کے لئے ہے اور یہ خلق کے لئے یا اپنے نفس کے واسطے۔
اس بات کو کبھی اپنے دل سے محو نہ کرو کہ خداتعالیٰ کے حضور اخلاص اور راستبازی کی قدر ہے۔ تکلف اور بناوٹ اُس کے حضور کچھ کام نہیں دے سکتی۔
اللہ تعالیٰ کی معرفت کے حصول کے ذرائع اب اگر یہ سوال ہوکہ پھر اس درجہ کے حصول کے لئے کیا کیا جائے
اور قرآن کریم نے اس درجہ پر پہنچنے کا کیا ذریعہ بتایا ہے؟ تو اس کا جواب یہ ہے کہ خداتعالیٰ نے دوباتیں اس کے لئے بطور اُصول کے رکھی ہیں۔ اوّل یہ کہ دُعا کرو۔ یہ سچی بات ہے۔ خلق الانسان ضعیفاً (النساء:۲۹) انسان کمزور مخلوق ہے۔ وُہ اللہ تعالیٰ کے فضل اور کرم کے بدوں کچھ بھی نہیں کرسکتا۔ اس کا وجود اور اس کی پرورش اور بقاء کے سامان سب کے سب اللہ تعالیٰ کے فضل پر موقوف ہیں۔ احمق ہے وہ انسان جو اپنی عقل و دانش یا اپنے مال ودولت پر ناز کرتا ہے، کیونکہ یہ سب کچھ اللہ تعالیٰ ہی کا عطیہ ہے۔ وہ کہاں سے لایا؟ اور دُع اکے لئے یہ ضرور بات ہے کہ انسان اپنے ضُعف اور کمزوری کا پورا خیال اور تصور کرے۔ جُوں جُوں وہ اپنی کمزوری پر غور کرے گا۔ اسی قدر اپنے آپ کو اللہ تعالیٰ کی مدد کا محتاج پائے گا۔ اور اس طرح پر دُع اکے لئے اس کے اندر ایک جوش پیدا ہوگا۔ جیسے انسان جب مصیبت میں مُبتلا ہوتا ہے اور دُکھ یا تنگی محسوس کرت اہے، تو بڑے زور کے ساتھ پُکارتا اور چلاتا ہے اور دوسرے سے مدد مانگتا ہے۔ اسی طرح اگر وہ اپنی کمزوریوں اور لغزشو ں پر غور کرے گا اور اپنے آپ کو ہر آن اللہ تعالیٰ کی مدد کا محتاج پائے گا، تو اس کی روح پورے جوش اور درد