عورت مریم کے پیٹ سے پیدا ہوا،خدا بنا لیا۔اور ایک خدا کو چھوڑ کر تین خدا ؤں کے قائل ہوئے۔جن میں سے ایک کو ملعون اور ہاویہ میں تین دن رہنے والا تجویز کیا۔اب اے دانشمندو!سوچو،اور اے سلیم فطرت والو!غور کرو کہ اگر اس الٹا سیدھا لٹکنے اور طبلہ اور سارنگی ہی کے ذریعہ خدا کی معرفت اور انسانی کمال حاصل ہو سکتا تھا تو پھر کیا وجہ ہے کہ اس فن میں ماہر اور موجد انگریزوں کو جو قسم قسم کے باجے اور گانے کا سامان نکالتے ہیں،ایسی ٹھوکر لگی کہ وہ خدا کے بالکل منکر یا تثلیث کے قائل ہو گئے۔باوجود یکہ دنیوی امور میں ایجادات اور اختراعات میںان کی عقلیں ترقی پذیر سمجھی جاتی ہیں۔پھر اس پر اور بھی غور کرو اور سوچو کہ اگر یہی معرفت کا ذریعہ تھا،تو تھیٹروں میں ناچنے والے اور اچھا ناچنے گانے والے سب اعلیٰ درجے کے صاحب دل اور صاحب کمال ماننے پڑیں گے!افسوس ان لوگوں کو خبر ہی نہیں کہ خدا کی معرفت ہوتی کیا ہے؟اور انسانی کمال نام کس کا ہے؟وہ شیطانی حصہ کی شناخت نہیں کر سکے۔
رقت اور گریہ وبکا نہوں نے صرف چند قطرے آنسوؤں کے بہا بہا لینا اور دو تین چیخیں مار دینا ہی روح کی تسلی اور اطمینان کا موجب سمجھا رکھا ہے۔
بسا اوقات انسان ناول پڑھتا ہے۔جب اس کے کسی درد ناک حصہ پر پہنچتا ہے،باوصفیکہ جانتا ہے کہ یہ ایک فرضی کہانی ہے اور جھوٹا قصہ ہے،لیکن پھر بھی وہ ضبط نہیں کر سکتا اور بعض دفعہ چیخیں مار مار کر رو پڑتا ہے۔اس سے معلوم ہوا کہ محض رونا اور چلانا بھی اپنے اندر کوئی حقیقت نہیں رکھتا۔میں نے سنا ہے کہ ملوک چغتائیہ کے عہد سلطنت میں بعض لوگ ایسے ہوتے تھے جو شرط لگا کر یقینا رلا دیتے تھے اور ہنسا دیتے تھے اور اب تو یہ صریح یہ بات موجود ہے کہ طرح طرح کے ناول موجود ہیں۔بعض ایسے ہیں کہ جن کو پڑھ کر بے اختیار ہنسی آتی ہے اور بعض ایسے ہیں کہ جن کو پڑھ کر دل بے اختیار ہو کر درد مند ہو جاتا ہے؛حالانکہ ان کو یقیناًبناوٹی قصے اور فرضی کہانیاں جانتے ہیں۔
اس سے صاف معلوم ہو گیا کہ انسان دھوکہ کھاتاہے۔اور یہ اس وقت ہوتا ہے،جب انسان نفسانی اغراض اور روحانی مطالب میں تمیز نہیں کرتا۔جس قدر لوگ دنیا میں ہیں،ان میں ایک بہت بڑی تعداد ایسے لوگوں کی ہے،جو علامت حقیقیہ سے بے نصیب ہیں۔ان کے منہ سے معارف اور حقائق نہیں نکلتے،پھر رلا دیتے ہیں۔اس کی یہ وجہ نہیں کہ وہ حقائق اور معارف سے بہروار ہیں۔جو عبودیت کے رنگ سے رنگیں ہو کر الوہیت کے عظمت وجلال سے خایف اور ترساں ہو کر بولتے ہیں۔بلکہ اس کی تہہ میں وہی بات ہوتی ہے جو میں نے ابھی ناولوں اور کہانیوں کے متعلق بیان کی ہے۔وہ خود بھی نفس کی ہوا میں مبتلا ہوتے ہیں اور یوں رونا کچھ فائدہ نہیں رکھتا۔
آنسو کا ایک قطرہ بھی دوزخ کو حرام کردیتاہے ہاں اگر اللہ تعالیٰ کی عظمت و جبروت اور اس کی خشیت کا غلبہ دل
پر ہو اور اس میں ایک رقّت اور گدازش پیدا ہوکر خدا کے لئے ایک قطرہ بھی آنکھ سے نکلے ، تو وُہ یقینا دوزخ کو حرام کردیتا