انسان گداز ہو کر پانی کی طرح بہنا شروع کرتا ہے۔اور خوف خشیت سے بہہ نکلتا ہے۔اس مقام پر وہ کلمہ بنتا ہے اور انما امرہ اذا ارادا شئیاًان یقول لہ کن فیکون(یس:۸۳)کا مفہوم اس میں کام کرنے لگتا ہے۔ کلمۃ اللہ اور روح کی حقیقت لوگوں نے کلمۃ اللہ کے لفظ پر جو مسیح کی نسبت آیا ہے۔سخت غلطی کھائی ہے اور مسیح کی کوئی خصوصیت  سمجھی ہے؛حالانکہ ایسا ہر گز نہیں ہے۔ہر انسان جب نفسانی ظلمتوں اور گندگیوں اور تیرگیوں سے نکل آتا ہے،اس وقت وہ کلمۃ اللہ ہوتا ہے۔ یاد رکھو کہ انسان کلمۃ اللہ ہے،کیونکہ اس کے اندر روح ہے،جس کا نام قرآن شریف میں امر ربی رکھا گیا ہے۔لیکن انسان نادانی اور ناواقفی سے روح کی کچھ قدرنہ کرنے کے باعث اس کو انواع اقسام کی سلاسل اور زنجیروں میں مقید کر دیتا ہے اور اس کی روشنی اور صفائی کو خطر ناک تاریکیوں اور سیاہ کاریوں کی وجہ سے اندھا اور سیاہ کر دیتا ہے اور اسے ایسا دھندلا بناتا ہے کہ پتہ بھی نہیں لگتا،لیکن جب توبہ کر کے اللہ تعالیٰ کی طرف رجوع کرتا ہے اور اپنی ناپاک اور تاریک زندگی کی چادر اتار دیتا ہے،تو قلب منور ہونے لگتا ہے اور پھر اصل مبداء کی طرف رجوع کرتا ہے۔یہاں تک کہ تقویٰ کے انتہائی درجے پر پہنچ کر سارا میل کچیل اتر کر پھر وہ کلمۃ اللہ کا ہی رہ جاتاہے۔یہ ایک باریک علم اور معرفت کا نکتہ ہے۔ہر شخص اس کی تہہ تک نہیں ہے پہنچ سکتا۔ انسان کا کمال انسان کا کمال یہ ہے کہ اس میں حقیقی معرفت اور سچی فراست جو ایمانی فراست کہلاتی ہے(جس کے ساتھ اللہ کا ایک نور  ہوتا ہے جو اس کی ہر راہ میں رہنمائی کرتا ہے)پیدا ہو۔بدوں اس کے انسان دھوکے سے بچ نہیں سکتا اور رسم عادت کے طور پر کبھی کبھی نہیں بلکہ بسا اوقات سم قاتل پر خوش ہو جاتا ہے۔پنجاب وہندوستان کے سجادہ نشین اور گدیوں اے پیرزادے قوالوں کے گانے سے اور ہوحق کے نعرے مارنے اور الٹے سیدھے لٹکنے میں ہی اپنی معرفت اور کمال کا انتہا جانتے ہیں اور نا واقف پیر پرست ان باتوںکو دیکھ کر اپنی روح کی تسلی اور اطمینان ان لوگوں کے پاس تلاش کرتے ہیں۔مگر غور سے دیکھو کہ اگر یہ لوگ فریب نہیں ہیں دیتے تو اس میںشک نہیں کہ فریب خوردہ وہ خود ہیں۔کیونکہ سچا رشتہ جو عبودیت اور الوہیت کے درمیاں ہے۔جس کے حقیقی پیوند سے ایک نوراورروشنی نکلتی ہے اور ایسی لذت پیدا ہوتی ہے کہ دوسری لذت اس کا مقابلہ نہیں کر سکتی۔اس کو ان قلابازیوں سے کچھ بھی تعلق نہیں۔ہم نہائے نیک نیتی کے ساتھ اور اللہ تعالیٰ خوب جانتا ہے کہ ہماری نیت کیسی ہے۔پوچھتے ہیں کہ اگر اس قسم کے مشغلے عبادت الہی اور معرفت الہی کا موجب ہو سکتے ہیں اور انسانی روح کے کمال کا باعث بن سکتے ہیں،تو پھر بازیگروں کو معرفت کی معراج پر پہنچا ہوا سمجھنا چاہیے۔اور انگریزوں نے تو ان کھیلوں اور کرتبوں میں اور بھی حیرت انگیز ترقیاں کی ہیں اور باوجود ان ترقیوں کے ان کی معرفت خدا کی نسبت یا تو یہ ہے کہ وہ سرے سے ہی منکر اور دہریہ ہو جاتے ہیں اور اگر اقرار بھی کیا ہے تو یہ کہ ایک ناتواں بیکس انسان کو جو ایک