سردار ہے یعنی دماغ میں ایک قسم کا تکلف ہے اور قلب میں نہیں بلکہ وہ بلا تکلف ہے۔ اس لیے قلب رب العرش سے ایک مناسبت رکھتا ہے۔ صرف قوتِ حاسہ کے ذریعہ دلائل و براہین کے بغیر پہچان جاتا ہے۔ اسی لیے حدیث شریف میں آیا ہے ۔ استفت القلب یعنی قلب سے فتوے پوچھ لے۔ یہ نہیں کہ دماغ سے فتویٰ پوچھ لو۔ الوہیت کی تارا سی کے ساتھ لگی ہوئی ہے۔ کوئی اس کو بعید نہ سمجھے ۔ یہ بات ادق اور مشکل تو ہے، مگر تزکیۂ نفس کرنے والے جانتے ہیں کہ یہ مکرّمات قلب میں موجود ہیں۔ اگر قلب میں یہ طاقتیں نہ ہوتیں،تو انسان کا وجود ہی بے کار سمجھا جاتا ۔صوفی اور مجاہدہ کرنے والے لوگ جو تصوف اور مجاہدات کے مشاغل میں مصروف ہوتے ہیں۔وہ خوب جانتے ہیں کہ قلب سے روشنی اور نور کے ستون شہودی طور پر نکلتے ہوئے دیکھتے ہیں اور ایک خط مستقیم میں آسمان کو جاتے ہیں۔یہ مسئلہ بدیہی اور یقینی ہے۔میں اس کو خاص مثال کے ذریعے سے بیان نہیں کر سکتا ۔ہاں جن لوگوں کو مجاہدات کرانے پڑتے ہیں یا جنہوں نے سلوک کی راہوں کو تلاش کرنا چاہا ۔انہوں نے اسے اپنے مشاہدہ اور تجربہ سے صحیح پایا ہے۔قلب اور عرش کے درمیان گویا ایک باریک تار ہے۔قلب کو جو حکم کرتا ہے اس سے ہی لذت پاتا ہے۔خارجی دلائل اور براہین کا محتاج نہیں ہو تا ہے،بلکہ اندر ہی اندر خدا سے باتیں کر کے فتویٰ دیتا ہے۔ہاں یہ بات سچ ہے کہ جب تک قلب قلب ہے لو کنا نسمع اونعقل(الملک:۱۱)کا مصداق ہوتا ہے۔یعنی انسان پر ایک وہ زمانہ آتا ہے کہ جس میں قلب و دماغ کی قوتیں اور طاقتیں نہیں ہوتی ہیں۔پھر ایک زمانہ دماغ کا آتا ہے۔دماغی طاقتیں اور قوتیں نشونما پاتی ہیں اور ایک ایسا زمانہ ااتا ہے کہ قلب منور اور مشتعل اور روشن ہو جاتا ہے۔جب قلب کا زمانہ آتا ہے۔اس وقت انسان روحانی بلوغ حاصل کرتا ہے اور دماغ قلب کے تابع ہو جاتا ہے اور دماغی قوتوں کو قلب کی خاصیتوں اور طاقتوں پر فوق نہیں ہے ااتا۔یہ بھی یاد رہے کہ دماغی حالتوں کو مومنوںسے ہی خصوصیت نہیں ہے۔ہندو اور چوہڑے وغیرہ بھی سب کے سب ہر ایک دماغ سے کام لیتے ہیں۔جو لوگ دنیوی معاملات اور تجارت کے کاروبار میں مصروف ہیں،وہ سب کے سب دماغ سے کام لیتے ہیں۔ان کی دماغی قوتیں پورے طور پر نشوونما پائی ہوئی ہوتی ہیں اور ہر روز نئی نئی باتیں اپنے کاروبار کے متعلق ایجاد کرتے ہیں۔یورپ اور نئی دنیا کو دیکھو کہ یہ لوگ کس قدر آئے دن نئی ایجادیں کرتے ہیں۔قلب کا کام جب ہوتا ہے،جب انسان خدا کا بنتا ہے۔اس وقت اندر کی ساری طاقتیں اور ریاستیں معدوم ہو کر قلب کی سلطنت ایک اقتدار اور قوت ھاصل کرتی ہے۔تب انسان کامل انسان کہلاتا ہے۔یہ وہی وقت ہوتا ہے۔جبکہ وہ نفخت فیہ من روحی(الحجر:۳۰)کا مصداق ہوتا ہے اور ملائکہ تک اس سے سجدہ کرتے ہیں۔اس وقت وہ ایک نیا انسان ہوتا ہے۔اس کی روح پوری لذت اور سرور سے سر شار ہوتی ہے۔یہ بات یاد رکھنی چاہیے کہ یہ لذت ایسی لذت نہیں جیسا کہ ایک ناعاقبت اندیش بد کار زنا کرنے میں پاتا ہے یاخوش الحانی کا شائق سرور اور خوش گلو کے گانے میں پاتا ہے۔نہیں بلکہ اس سے دھوکہ نہیں کھانا چاہیے۔روح کی لذت اس وقت ملتی ہے۔جب