کوئی ہو انہیں لگی ہوتی ہے اور وہ ہر قسم کے نشیب وفراز سے ناواقف ایک ہموار سطح پر چلتے ہیں۔ نفس امارہ وہ ہے جب کہ دُنیا کی ہوا لگتی ہے۔ نفس لوامہ وہ نفس ہے جب کہ ہوش آتاہے اور لغزشوں کو سوچتا ہے اور کوشش کرتا ہے اوربدیوں سے بچنے کے لئے دعا کرتاہے۔ اپنی کمزوریوں سے آگاہ ہوتا ہے اور نفسِ مطمئنہ وہ ہوتاہے جبکہ ہرقسم کی بدیوں سے بچنے کی بفضل الہٰی قوت اور طاقت پاتاہے اور ہر قسم کی آفتوں اور مصیبوتوں سے اپنے آپ کو امن میں پاتا ہے اور اس طرح پر ایک بُددت اور اطمینان قلب کو حاصل ہوتا ہے کہ کسی قسم کی گھبراہٹ اور اضطراب باقی نہ رہے۔
دماغ، دل اور زبان کا دائرۂ کار اس کی مثال اس طرح کی ہے کہ اللہ تعالیٰ نے انسان کے وجود میں تین قسم کی حکومت رکھی ہے۔
ایک دماغ، دُوسرا دل ، تیسری زبان۔ دماغ عقول اور براہین سے کام لیتا ہے اور اُس کا یہ کام ہے کہ ہر وقت وہ ایک تراش خراش میں لگا رہتاہے اور نئی نئی براہین اور حجج کو سوچتا رہتاہے۔ اس کے سپرد یہی خدمت ہے کہ وہ مقدمات مرتب کرکے نتائج نکالتا رہتا ہے۔ قلب تمام وجود کا بادشاہ ہے۔ یہ دلائل سے کام نہیں لیتا ؛ چونکہ اس کا تعلق ملک الملوک سے ہے، اس لیے کبھی صریح الہام سے کبھی خفی الہام سے اطلاع پاتا ہے۔ یوں بھی کہہ سکتے ہیں کہ دماغ و زیر ہے۔ وزیرمدبر ہوتے ہیں۔ اس لئے دماغ تجاویز، اسباب ، دلائل اور نتائج کے متعلق کام میں لگا رہت اہے۔ قلب کو اُن سے کام نہیں ہے۔ اس کے اندر اللہ تعالیٰ نے قوت حاسہ رکھی ہے۔ جیسے چیونٹی جہاں کوئی شیر ینی رکھی ہوئی ہو۔ معاً اس جگہ پر پہنچ جاتی ہے ؛ حالانکہ اس کے لئے دلیل اس امر کی نہیں ہوتی کہ وہاں شیرینی ہے بلکہ خداتعالیٰ نے اس میں ایک قوتِ حاسہ رکھی ہوئی ہوتی ہے جو اس کی رہبری کرتی ہے ۔ اسی طرح پر قلب کو چیونٹی کے ساتھ مشابہت ہے کیونکہ اس میں بھی وہ قوتِ حاسہ موجود ہے، جو اس کی رہنمائی کرتی ہے اور وہ دلائل و براہی اورترتیب مقدمات اور استخراج نتائج کی ضرورت نہیں رکھتا۔ گویہ امردیگر ہے کہ دماغ اس کے لئے یہ اسباب اور اُمور بھی بہم پہنچادیتا ہے۔
قلب کے معنی قلب کے معنے ایک ظاہری اور جسمانی ہیں اور ایک رُوحانی ۔ ظاہری معنی تو یہی ہیں کہ پھرنے والا۔ چونکہ دورانِ خون اسی سے ہوتاہے،اس لیے اس کو قلب کہتے ہیں۔ روحانی طور پر اس کے یہ معنی ہیں کہ جو ترقیات انسان کرنا چاہتا ہے وہ قلب ہی کے تصرف سے ہوتی ہیں۔ جس طرح پر دورانِ خون انسانی زندگی کے لئے اشد ضروری چیز ہے، اس قلب سے ہوتاہے، اسی طرح روحانی ترقیوں کا اسی کے تصرف پر انحصار ہے۔
قلب اور دماغ کی ماہیت بعض نادان آج کل کے فلسفی بے خبر ہیں۔ وہ تمام عمدہ کاروبار کو دماغ سے ہی منسوب کرتے ہیں، مگر وہ اتنا نہیں جانتے کہ دماغ تو صرف دلائل و براہین کا ملکہ ہے۔ قوتِ متفکرہ اور حافظہ دماغ میں ہے، لیکن قلب میں ایک ایسی چیز ہے جس کی وجہ سے وُہ