اسی سلسلہ کی معیاد چودہ برس تک رہی۔ برابر خلفاء آتے رہے ۔ یہ ایک اللہ تعالی کی طرف سے پیش گوئی تھی کہ جس طرح سے پہلے سلسلہ کا آغاز ہوا۔ ویسے ہی اس سلسلہ کا آغاز ہو گا۔ یعنی جس طرح موسی نے ابتدا میں جلالی نشان دکھلائے اور قوم کو فرعون سے چھڑایا ۔اس طرح آنے والا نبی بھی موسیٰ کی طرح ہو گا۔ فکیف تتقون ان کفرتم یوم یجعل الولدان شیبا السماء منفطر بہ کان وعدہ مفعولا (المزمل:۱۸،۱۹) یعنی جس طرح ہم نے موسی کو بھیجا تھا۔ رسول اکرم صلی اللہ علیہ والہ وسلمکے وقت کفار عرب بھی فرعونیت سے بھرے ہوئے تھے ،وہ بھی فرعون کی طرح باز نہ آئے۔ جب تک انہوں نے جلالی نشان نہ دیکھ لیا۔آنحضرت صلی اللہ علیہ والہ وسلم کے کام موسی کے کاموں سے تھے ۔اس موسی کے کام قابل پذیرائی نہ تھے، لیکن قرآن شریف نے منوایا۔ حضرت موسی کے زمانے میں گو فرعون کے ہاتھ سے بنی اسرائیل کو نجا ت ملی ،لیکن گناہوں سے نجات نہ ملی، وہ لڑے اور کج دل ہوئے اور موسی پر حملہ آور ہوئے، لیکن ہمارے نبی اکرم صلی اللہ علیہ والہ وسلمنے پوری پوری نجات قوم کو نجات دی۔ رسول اکرم صلی اللہ علیہ والہ وسلم اگر طاقت ،شوکت، سلطنت اسلام کو نہ دیتے، تو مسلمان مظلوم رہتے اور کفار کے ہاتھ سے نجات نہ پاتے ۔اللہ تعالی نے ایک تو یہ نجات دی کہ مستقل اسلامی سلطنت قائم ہو گئی۔ دوسرے یہ کہ گناہوں سے ان کو کامل نجات ملی ۔خدا تعالی نے ہر دو نقشے کھینچے ہیں کہ عرب پہلے کیا تھے اور پھر کیا ہو گئے ۔اگر ہر دو نقشے اکٹھے کیے جائیں ،تو ان کی پہلی حالت کا ندازہ ہو جائے گا۔ سو اللہ تعالی نے ان کو دونوں نجاتیں دیں۔ شیطان سے بھی نجات دی اور طاغوت سے بھی ۔
آنحضرت صلی اللہ علیہ والہ وسلم اور آپ کے صحابہ کا مقام
جو صدق و وفا آپ نے اور آپ کے صحابہ ؓ کرام نے دکھلایا اس کی نظیرکہیں نہیں ملتی ۔جان دینے تک سے دریغ نہ کیا۔ حضرت عیسی کے لئے کوئی مشکل کام نہ تھا اور نہ ہی کوئی منکر الہی تھا۔ برادری کے چند لوگوں کو سمجھانا کونسا بڑا کام ہے۔ یہودیت تورایت تو پڑھے ہوئے تھے ۔اس پر ایمان رکھتے تھے۔ خدا کو وحدہ شریک جانتے تھے ۔بعض وقت یہ خیال آجاتا ہے کہ حضرت مسیح کیا کرنے آئے تھے۔ یہودیوں میں تو اب بھی تورایت کے لئے بڑی غیرت پائی جاتی ہے۔ نہ کار یہ کہہ سکتے ہیں کہ شاید اخلاقی نقص یہود میں تھے۔ لیکن تعلیم تو تورایت میں موجود ہی تھی۔ باوجود اس سہولت کے کہ قوم اس کتاب کو مانتی تھی۔ حضرت مسیح نے وہ کتاب سبقاً سبقاً وہ کتاب استاد سے پڑھی تھی۔ اس کے مقابل ہمارے سید ومولی ہادی کامل امی تھے ۔آپ کا کوئی استاد نہ تھا اور یہ ایک واقعہ ہے کہ مخالف بھی اس مر سے انکار کر سکے۔ پس حضرت عیسی کے لئے دو آسا نیاں تھیں۔ ایک تو برادری کے لوگ تھے اور جو بھاری بات ان سے منوانی تھی ،وہ پہلے ہی مان چکے تھے۔ ہاں کچھ اخلاقی نقص تھے، لیکن باوجود اتنی سہولت کے حواری بھی درست نہ ہوئے۔ لالچی رہے۔ حضرت عیسی اپنے پاس روپیہ رکھتے تھے۔ بعض حواری چوری بھی کرتے تھے؛ چنانچہ وہ (حضرت مسیح ) کہتے ہیں۔ کہ مجھے سر رکھنے کی اجازت نہیں۔ لیکن ہم حیران ہیں کہ ایسا کہنے کے کیا معنی ہیں۔ جب گھر بھی ہو۔ مکان بھی ہو۔ اور مال میں گنجائش اس قدر کہ