نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی حددرجہ ہمدردی وغمگساری ایسے لوگ چونکہ بنی نوع کی ہمدردی میں محو ہوتے
ہیں ، اس لئے رات دن سوچتے رہتے ہیں اور اسی فکر میں کڑھتے ہیں کہ یہ لوگ کسی نہ کسی طرح اس راہ پر آجائیں اور ایک باراس چشمہ سے ایک گھونٹ پی لیں۔ یہ ہمدردی ، یہ جوش ہمارے سیدومولیٰ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم میں غایت درجہ کا تھا۔ اس سے بڑھ کر کسی دوسرے میں ہوسکتا ہی نہیں؛ چنانچہ آپ ؐ کی ہمدرددی اور غمگساری کا یہ عالم تھا کہ خود اللہ تعالیٰ نے اس کا نقشہ کھینچ کر دکھایا ہے:۔ لعلک باخع نفسک الا یکون نوامومنین (الشعراء:۴) یعنی کیا تو اپنی جان کو ہلاک کردے گا۔ اس غم میں کہ یہ کیوں مومن نہیں ہوتے۔ اس آیت کی حقیقت آپ پورے طور پر نہ سمجھ سکیں۔ تو جدا امر ہے۔ مگر میرے دل میں اس کی حقیقت یوں پھرتی ہے، جیسے بدن میں خون
بدل وردیکہ وارم ازبرائے طالبانِ حق نمے گردوبیان آں ورد ازتقریر کوتاہم
متأثرہونے کی اِستعداد پھر یہ بھی سمجھنا چاہیے کہ معلم جس رنگ اور طاقت کا ہو۔ اس کا اثر اسی حیثیت سے حسبِ استعداد
سُننے والوں پر ہوتاہے؛ بشرطیکہ استعداد میں قابلیت ہو۔ جو لوگ خداتعالیٰ سے زیادہ مناسبت رکھتے ہیں اور خوف اور خشیئت رکھتے ہیں۔ اُن پر اثر زیادہ ہوتا ہے۔ اس کا نشان یہ ہے کہ روح تزکیۂ نفس کے لئے دوڑتی ہے اور بے اختیار ہوہوکر خداتعالیٰ کی طرف جاتی ہے۔ اگر نفسِ امارہ کے ساتھ تعلق زیادہ ہے اور اس کی حکومت کے نیچے ہے، تو طبیعت میں ایک اضطراب اور قلق سا پیدا ہوتاہے۔ اُس کی باتوں سے نفرت معلوم ہوتی ہے۔ وہاں بیٹھنے اور سننے کو جی نہیں چاہتا، بلکہ گھبراہٹ معلوم ہوتی ہے جب انسان اس قسم کی بے چینی اور بے لذتی ایک حقانی واعظ کی باتوں سے اپنے دل میں پائے تو اُس کو واجب ہے کہ وہ اپنی رُوح کی فکر کرے کہ وہ ہلاکت کے گڑھے پر پہنچی ہوئی ہے۔ خدا کی باتوں سے بے لطفی اور بے ذوقی۔
رُوحانی بیماریوں کا علاج اِس سے بڑھ کردُنیا میں ہلاک کرنے والی چیز کیا ہوگی، اس کا علاج کیا ہے؟ اس کا علاج استغفار، خدا کےحضور رجُوع ، اپنے گناہوں کی معافی کے لئے دعائیں اور اُن پر دوام۔ اگر اس نسخہ کو استعمال کیا جائے تو مَیں یقینا کہہ سکتا ہوں کہ اس بے لطفی سے ایک لطف اور اس بے ذوقی میں سے ایک ذوق پیدا ہوجائے گا۔ پھر وہی رُوح جو خدا کے حضور جانے سے بھاگتی اور خدا کی باتوں کے سننے سے نفرت کرتی تھی۔ خدا کی طرف گیند کی طرح لڑھکتی ہوئی چلی جائے گی۔
نفس کی تین اقسام نفس کی تین قسمیں ہیں۔ امّارہ۔ لوامہ۔مطمئننہ۔ مطمئنہ کی ایک حالت نفس زکیہ کہلاتی ہے۔نفسِ زکیہ بچوںکا نفس ہوتا ہے جس کو