جن کی خوشی اوررضامندی اُن کو مطلوب ہوتی ہے نہ کدا کی رضا، لیکن راستباز اور حقانی لوگ جو قیامت تک ہوں گے۔ اُن کا یہ مقصد اور منشاء کبھی نہیں ہوتا۔ اُن کا مقصود اور مطلوب خداہوتاہے اور بنی نوع انسان کی سچی ہمدردی اور غمگساری جو اللہ تعالیٰ کی رضا کے حصول کا ایک بڑاذریعہ ہے ۔ وُہ دُنیا کو دکھانا چاہتے ہیں۔ جو خود اُنہوں نے دیکھا ہے۔ اللہ تعالیٰ کا جلال ظاہر کرنا اُن کی تمنا ہوتی ہے، اس لیے وہ جو کچھ کہتے ہیں بلا خوفِ لومۃ لائم کہتے ہیں۔ اُن کی نگاہ میں سامعین ایک مُردہ کیڑے ہوتے ہیں۔ نہ اُن سے کوئی اجر مقصود ہوتاہے۔ نہ اُن کے واہ واہ کی پروا۔ غرض یہی وجہ ہے کہ بعض اوقات لوگ اُن کی باتیں سن کر گھبراجاتے ہیں اور درمیان تقریریں اُٹھ کر چلے جاتے ہیں۔ اور بسااوقات گالیاں دیتے اور دُکھ دینے والی باتوں ہی پر اکتفانہ کرکے قسم قسم کی اذیتیں اور تکلیفیں پہنچاتے ہیں۔ اس سے صاف پتہ لگ جاتاہے کہ نفسانی لذت کا طالب اور خواہشمند کون ہوتاہے اور نفسانی لذت ہوتی کیا ہے۔ایک طوائف کا ناچ ہوتو ساری رات بھی جاگنا اوور زرد اون و دردِ سر خریدن کا مصداق ہونا بھی منظو ر، لیکن ایک حقانی واعظ کے چند کلمے جو نہایت خلوص اورسچے جوش اور حقیقی ہمدردی کی بنء پر اس کے پاک مُنہ سے نکلتے ہیں۔اُن کے لئے سننا دشورار اور گران ۔ مگر یہ حقانی واعظوں کی جمات ان باتوں سے نہ کبھی گھبراتی اور نہ تھکتی ہے کیوں؟ ان کے پیش نظر خدا ہوتاہے جو اپنی لاانتہاقدرتوں اورفوق الفوق طاقتوںکے ساتھ اُن پرجلوہ نمائی کرتا ہے، جو اُن پر سکینت اور استقلال نازل فرماتا ہے، پھر وُہ مرُدہ دُنیا داروں کی پرَواکیا کرسکتے ہیں۔
ربّانی واعظ کا اثر رُوح پریادرکھنا چاہیے کہ انسان کی پیدائش میں ایک رُوح کا حصہ ہے دُوسرے نفس کا جو بہت پھیلا ہوا ہے۔
اب آپ لوگ یہ بات آسانی سے سمجھ سکتے ہیں کہ جو چیز زیادہ ہوگی،اُس کا اثر زیادہ ہوگا۔ رُوح کاجوش ایسا ہے جیسے کوئی غریب الوطن ناواقف لوگوں میں آکربسے پس رُوح جو گمنام حالت میں ہوتی ہے۔ اُس پر بہت کم اثرہوتاہے۔روح کے اثر کی علامت یہ ہے کہ جب ربانی واعظِ اور حقانی ریفارمربولتاہے، تو وہ اپنے وعظ میں سامعین کو کالعدم سمجھتا ہے اور پیغام رساں ہوکر باتی پہنچاتا ہے۔ ایسی صورت می رُوح میں گدازش پیدا ہوتی ہے۔ یہانتک کہ وُہ پانی کے ایک آبشار کی طرح جو پیاڑ کے بلند کڑاڑے سے نشیب کی طرف گرتا ہے، بے اختیار ہوکر گرتی ہے۔ خداتعالیٰ کی طرف بہتی ہے او راس بہائو میں وہ ایک ایسی لذت اور سردرمحسوس کرتی ہے جس کو مَیں الفاظ میں بیان نہیں کرسکتا۔ پس وہ اپنے بیان اور اپنی تقریر میں وجہ اللہ کو دیکھتا ہے۔ سامعین کی اُسے پروا بھی نہیںہوتی کہ وہ سن کر کیا کہیں گے۔ اس کو ایک اور طرف سے ایک لذت آتی ہے اور انر ہی اندر خوش ہوتا ہے کہ میں اپنے مالک اورحکمران کے حکم اورپیغام کوپہنچارہا ہوں۔ اس پیغام رسانی میں جو مشکلات اور تکالیف اُسے پیش آتی ہیں وہ بھی اُ سکے لئے محسوس ا للذات اور مدرک الحلاوت ہوتی ہیں۔