بلاغت زبان پر پوری حکومت اور قادرالکلامی، برمحل اشعار،کہانیوں اور ہنسانے والے لطیفوں کو پسند کریں اور داددیں تاکہ سخن فہم ثابت ہوں ۔ گویا اُن کا مقصود بجائے خود خدا سے دُور ہوتاہے اور بولنے والے کا الگ ۔ وُہ بولتاہے مگر خدا کے لئے اور یہ سنتے ہیں، مگر ان باتوں کو دل میں جگہ نہیں دیتے، اس لیے کہ وہ خداکے لئے نہیں سنتے۔یہ کیوں ہوتا ہے صرف اس بات کے واسطے کہ ایک لذت حاصل کریں۔ یادرکھو!انسان دوقسم کی لذتوں کا مجموعہ ہے۔ ایک رُوح کی لذت ہے۔ دُوسری نفس کی لذت۔
رُوحانی لذت تو ایک باریک اور عمیق راز ہے۔ جس پر اگر کسی کو اطلاع مل جائے اور ساری عمرمیں ایک مرتبہ بھی جس کو یہ سُرور اور ذوق مل جائے وہ اس سے سرشار اور مست ہو جائے۔نفسا نی لذتیں ایسی ہیں کہ ہمیشہ آنی اور فانی ہوتی ہیں ۔نفسانی لذت وہ لذت ہے ،جس کے ساتھ ایک طوائف بازاروں میں ناچا کرتی ہے۔وہ بھی اس لذت میں شریک ہیں۔جیسے مولوی واعظ کی حیثیت میں گاتا ہے اور لوگ اس کو پسند کرتے ہیں۔ویسے ہی بازاری عور ت گاتی ہے ،اسے بھی پسند کرتے ہیں۔اس سے صاف معلوم ہوت اہے کہ نفس یہی چیز ہے جو ایک وعظ کے وعظ سے بھی لذت اٹھاتا ہے اور دوسری طرف ایک بد کار عورت کے گانے سے بھی لطف اٹھاتا ہے؛حالانکہ وہ خوب جانتا ہے کہ یہ عورت بد کار ہے۔اس کے اخلاق،اس کی معاشرت بہت ہی قابل نفرت ہے لیکن اس پر بھی اگر وہ اس کی باتوں اور اس کے گانے سے لذت اٹھاتا ہے اور اس کو نفرت اور بد بو نہیں آتی،تو یقیناً سمجھو کہ یہ نفسانی لذت ہے؛ورنہ تو روح ایسی گھناونی اور متعفن شے پر راضی نہیں ہو سکتی۔اس قابل رحم واعظ کو یہ پتہ نہیں ہوتا کہ مجھ میں پاک حصہ نہیں ہے۔ایسا ہی اپنی جانوں پر ظلم کرنے والے سامعین نہیں سمجھتے کہ ہم یہاں صرف نفسانی لذت کے لئے بیٹھے ہوئے ہیں اور خدا کا بخرہ ہم میں نہیں ہے۔پس میں خدا تعالیٰ سے پناہ مانگتا ہوں کہ وہ ہماری تقریروں ،ہمارے بولنے اور بولنے والوں اور سننے والون میں سے اس ناپاک اور خبیث روح کے حصہ کو نکال کر محض للہیت بھر دے۔ہم جو کچھ کہیں خدا کے لئے،اس کی رضا حاصل کرنے کے لئے اور جو کچھ سنیں،خدا کی باتیں سمجھ کر سنیں اور نیز عمل کرنے کے واسطے سنیں اور مجلس وعظ سے ہم صرف اتنا ہی حصہ نہ لے جائیں کہ یہ کہیں آج بہت اچھا وعظ ہوا۔
راستبازی اور ربانی واعظ مُسلمانوںمیں اِدبارا اور زوال آنے کی یہ بڑی بھاری وجہ ہے ؛ورنہ اس قدر کانفرنسیں اورانجمنیں
اور مجلسیں ہوتی ہیں اور وہاں بڑے بڑے لسَّان اور لیکچرار اپنے لیکچر پڑھتے اورتقریں کرتے ہیں ، شاعر قوم کی حالت پر نوحہ خوانیاں کرتے ہیں۔ وہ بات کیا ہے کہ اس کا کچھ بھی اثر نہیں ہوتا۔ قوم دن بدن ترقی کی بجائے تنزل ہی کی طرف جاتی ہے۔ بات یہی ہے کہ ان مجلسوں میں آ نے جانے والے اخلاص لے کر نہیں جاتی۔ وہاں لیکچراروں کی غرض جیس اکہ مَیں نے ابھی بیان کیا ہے۔ خواہ وہ مولوی ہوں یا نئے تعلیمیافتہ مسائخ ہوں یا صُوفی صرف واہ واہ سننا ہوتی ہے۔ تقریر کرتے وقت ان کے معبود سامعین ہوتے ہیں۔