جلسہ سالانہ کی تقریر
۲۸؍دسمبر۱۸۹۹ء
تقریر اور وعظ میں محض للہیت مقصود ہو سب صاحبان متوجہ ہوکر سنیں ۔ مَیں اپنی جماعت اور کود اپنی ذات اور اپنے نفس
کے لئے یہی چاہتا اورپسندکرتاہوں کہ ظاہری قیل وقال جو لیکچروں میں ہوتی ہے۔ اُس کو ہی پسند نہ کیا جاوے اور ساری غرض و غایت آکر اُس پر ہی نہ ٹھہر جائے کہ بولنے والا کیسی جادُو بھری تقریر کررہا ہے۔ الفاظ میں کیس ازور ہے۔ مَیں اس بات پر راضی نہیں ہوتا، مَیں تو یہی پسند کرتا ہوں اور نہ بناوٹ اور تکلف سے بلکہ میری طبیعت اور فطرت کاہی یہی اقتضا ہے کہ جو کام ہو اللہ کے لئے ہو جو بات ہو۔ خدا کے واسطے ہو۔ اگر اللہ کی رضا اور اس کے احکام کی تعمیل میرا مقصد نہ ہوتا، تو اللہ تعالیٰ بہترجانتا ہے کہ مجھے تقریریں کرنی اور وعظ سُنانا تو ایک طرف، مَیں تو ہمیشہ خلوت ہی کو پسند کرتاہوں اور تنہائی میں وُہ لذت پاتا ہوں جس کوبیان نہیں کرسکتا، مگر کیا کروں بنی نوع کی ہمدردی کھینچ کھینچ کر باہر لے آتی ہے اور اللہ تعالیٰ کا حکم ہے، جس نے مجھے تبلیغ پر مامور کیا ہ۔ مَیں نے یہ بات کہ ظاہری قیل وقال ہی کو پسند نہ کیاجائے، اس لیے بیان کی ہے کہ ہرخیر میں بھی شیطان کا حصہ رکھا ہو اہوتاہے۔ پس جب انسان وعظ کے لئے کھڑ اہوتا ہے تو اس میں شک نہیں کہ امربالمعروف اورنہی عن المنکر بہت ہی عمدہ کام ہے، مگر اس منصب پر کھڑا ہونے والے کو ڈرنا چاہیے کہ اس میں مخفی طور پر شیطان کا بھی حصہ ہے ۔ کچھ تو واعظ کے بخرہ میں آتا ہے اور کچھ سُننے والوں کے حصہ میں اس کی حقیقت یہ ہے کہ جب واعظِ وظ کے لئے کھڑے ہوتے ہیں، تو مقصد اور دلی تمنا صرف یہ ہوتی ہے کہ مَیں ایسی تقریر کروں کہ سامعین خوش ہوجائیں۔ ایسے الفاظ اورفقرات بولوں کہ ہر طرف سے واہ واہ کی آوازیں آئیں۔ مَیں اس قسم کی تقریر کرنے والوں کے مقاصد کو اس سے بڑھ کر نہیں سمجھتا۔ جیسے بھڑوے، بقال ، قوال ، گویّئے یہی کوشش کرتے ہیں کہ اُن کے سننے والے ان کی تعریفیں کریں۔
پس جب ایک مجمع کثیر سننے والا ہو اور اس میں ہر ایک مذاق اور درجہ کے لوگ موجود ہوں ، تو خداکی طرف کی آنکھ کُھلی نہیں ہوتی۔ الا ماشاء اللہ مقصود یہی ہوتا ہے کہ سننے والے واہ واہ کریں۔ تالیاں بجائیں اور چیر زدیں ۔ غرض یہ حصہ شیطان کا واعظ یا بولنے والے میںہوتا ہے اور سامعین میں شیطانی حصہ یہ ہوتاہے کہ وُہ بولنے والے کی فصاحت و