کوئی ملونی ذاتی فوائد او رمنافع کی نہ ہو اور ایسا جوش ہو کہ خود بھی نہ جان سکے کہ یہ جوش مجھ میں کیوں ہے۔ بہت ضرورت ہے کہ ایسے لوگ بکثرت پیدا ہوں، مگر سوائے اللہ تعالیٰ کے ارادہ کے کچھ ہو نہیں سکتا۔ حالاتِ زمانہ زمانہ اور ضرورت مُصلح اور جو لوگ اس طرح دینی خدمات میںمصروف ہوئے ہیں۔ وہ یاد رکھیں کہ وہ خداتعالیٰ پر کوئی احسان نہیں کرتے۔ جیساکہ ہرایک فصل کے کاٹنے کا وقت آجاتا ہے۔ ایس اہی اب مفاسد کے دُور کردینے کا وقت آگیا ہے۔ تثلیث پرستی حد کو پہنچ گئی ہے۔ صادق کی توہین اور گُستاخی انتہاتک کی گئی ہے۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی قدر مکھی اور زنبور جتنی بھی نہیں کی گئی۔ زنبور سے بھی انسان ڈرت اہے اور چیونٹی سے بھی اندیشہ کرتا ہے،لیکن حضرت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو بُرا کہنے میں کوئی نہیں جھجکتا۔ کذبوا بایاتنا کے مصداق ہورہے ہیں۔ جتنا مُنہ اُن کا کھل سکتا ہے۔ اُنہوں نے کھولا اور منہ پھاڑ پھاڑ کر سب وشتم کئے۔ اب واقعی وہ وقت آگیا ہے کہ خداتعالیٰ اُن کا تدارک کرے۔ ایسے وقت میں وہ ہمیشہ ایک آدمی کو پیداکیا کرتا ہے، جو اُس کی عظمت اور جلال کے لئے بہت جوش رکھتا ہے۔ ایسے آدمی کو باطنی مدد کا سہارا ہوت اہے۔ دراصل اللہ تعالیٰ سب کچھ آپ ہی کرتا ہے، مگر اس کا پید اکرنا ایک سنت کاپورا کرنا ہوتا ہے۔ ولن تجدلسنۃ اللہ تبدیلاً(الفتح:۲۴) اب وہ وقت آگیا ہے۔ خداتعالیٰ نے قرآن کریم میں عیسائیوں کو نصیحت فرمائی تھی کہ اپنے دین میں غلُونہ کریں۔ پر انہوں نے اس نصیحت پر عمل نہ کیا۔ اور پہلے وہ ضالین تھے، مگر اب مضلین بھی بن گئے۔ خداتعالیٰ کے صحیفۃ قدرت پر نظرڈالنے سے معلوم ہوت اہے کہ جب بات حد سے گذرجاتی ہے، توآسمان پر تیاری کی جاتی ہے۔ یہی اس کا نشان ہے کہ یہ تیاری کا وقت آگیا ہے۔ سچے نبی ورسو ومجدد کی بڑی نشانی یہی ہے کہ وہ وقت پرآوے اور ضرورت کے وقت آوے۔ لوگ قسم کھاکر کہیں کہ کیا یہ وقت نہیں کہ آسمان پر کوئی تیاری ہو، مگر یادرکھو کہ اللہ تعالیٰ سب کچھ آپ ہی کیا کرتا ہے۔ ہم اور ہماری جماعت اگر سب کے سب حُجروں میں بیٹھ جائیں۔ تب بھی کام ہوجائے گا۔ اور دضال کو زوال آ جائے گا۔ تلک الایام نداولھابین الناس(آل عمران:۱۴۱) اُس کا کمال بتا تا ہے کہ اب اُس کے زوال کا وقت قریب ہے۔ اس کا ارتفاع ظاہر کرتاہے کہ اب وہ نیچا دیکھے گا۔اُس کی آبادی اُس کی بربادی کا نشان ہے۔ ہاں ٹھندی ہو اچل پڑی۔ اللہ تعالیٰ کے کام آہستگی کے ساتھ ہوتے ہیں۔ اگر ہمارے پا س کوئی بھی دلیل نہ ہوتی؛ تاہم زمانہ کے حالات پر نظر کرکے مُسلمانوں پر واجب تھا کہ وہ دیوانہ وار پھرتے اور تلاش کرتے کہ مسیح ؐ ابتک کیوں نہیں کسرِ صلیب کے لئے آیا۔ اُن کو یہ نہ چاہیے تھا کہ اُسے اپنے جھگڑوں کے لئے بُلاتے، کیونکہ اُس کاکام کسرِ صلیب ہے اور اُسی کی زمانہ کو ضرورت ہے۔ اِسی لیے اُس کا نام مسیح موعود ہے۔ اگر ملانوں کو بنی نوع کی بھلائی اور بہبودی مدِ نظر ہوتی ، تو وہ ہرگز ایس انہ کرتے جیس اہم سے کررہے ہیں۔ اُن کو سوچنا چاہئے تھا کہ اُنہوں نے ہمارے خلاف فتویٰ لکھ کر کیا بنالیا ہے۔ جسے خداتعالیٰ نے کہا کہ ہوجائے اُسے کون کہہ سکتا