مصیبت سے بچاو۔حدیث شریف سے ثابت ہے کہ اگر تم دجال کو نہ بھی مارو تو وہ خود ہی مر جائے گا ۔مثل مشہور ہے ؎ ہر کمالے را زوالے۔تیرھویں صدی سے یہ آفتیں شروع ہوئیں اور اب وقت قریب ے کہ اُس کا خاتمہ ہوجائے اس لئے ہر ایک مسلمان کا فرض ہے کہ جہانتک ہوسکے پوری کوشش کرے۔ نور اور روشنی لوگوں کو دکھائے۔
خداتعالیٰ کی عظمت اور جلال کے ظاہر ہونے کی تمنا
اللہ تعالیٰ کے نزریک ولی اللہ اور صاحب ِ برکات وہی شخص ہے جس کو یہ جوش حاصل ہوجائے۔ اللہ تعالیٰ چاہتاہے کہ اُس کا جلال ظاہر ہو۔ نماز میں جوسبحان ربی العظیم اور سبحان ربی الاعلیٰ کہا جاتاہے، وُہ بھی خداتعالیٰ کے جلال کے ظاہر ہونے کی تمنا ہے۔ کہ اللہ تعالیٰ کی ایسی عظمت ہوجس کی نظیر نہ ہو۔ نماز میں تسبیح وتقدیس کرنے ہوئے یہی حالت ظاہر ہوتی ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ترغیب دی ہے کہ طبعاً جوش کے ساتھ اپنے کاموں سے اور اپنی کوششوں سے دکھادے کہ اُس کی عظمت کے برخلاف کوئی شے مجھ پر غالب نہیں آسکتی۔ یہ بڑی عبادت ہے جو لوگ اس کی مرضی کے مطابق جوش رکھتے ہیں، وہی موید کہلاتے ہیں اور وہی برکتیں پاتے ہیں جو لوگ خداتعالیٰ کی عظمت اور جلال اور تقدیس کے لئے جوش نہیں رکھتے۔ اُن کی نمازیں جھوٹی ہیں اور ان کے سجدے بے کا رہیں۔ جب تک خداتعالیٰ کے لئے جوش نہ ہو۔ یہ سجدے صرف منتر جنتر ٹھہریں گے ۔ جن کے ذریعہ سے یہ بہشت کو لینا چاہتا ہے۔ یادرکھو کوئی جسمانی بات جس کے ساتھ کیفیت نہ ہو، فائدہ مند نہیں ہوسکتی۔ جیسا کہ اللہ تعالیٰ کو قربانی کے گوشت نہیں پہنچتے۔ ایس اہی تمہارے رکوع اور سجود بھی نہیں پہنچتے، جب تک اُن کے ساتھ کیفیت نہ ہو۔ اللہ تعالیٰ کیفیت کو چاہتا ہے اور اُن لوگوں سے محبت کرتا ہے جو اُس کی عزت اورعظمت کے لئے جوش رکھتے ہیں۔ جو لو گ ایسا کرتے ہیں وہ ایک باریک راہ سے گذرتے ہیں اور کوئی دوسرا شخص اُن کے ساتھ نہیں جاسکتا۔ جب تک کیفیت نہ ہو انسان ترقی نہیں کرسکتا۔ گویا خداتعالیٰ نے قسم کھائی ہے کہ جب تک اُس کے لئے جوش نہ ہوکوئی لذت نہیں دے گا۔
ہر ایک آدمی کے ساتھ ایک تمنا ہوتی ہے، لیکن کوئی شخص مومن نہیں بن سکتا۔ جب تک کہ ساری تمنائوں پر اللہ تعالیٰ کی عظمت کومقدم نہ کرلے۔ ولی قریبی اور دوست کو کہتے ہیں ۔ جو دوست چاہتا ہے، وہی یہ چاہتا ہے تب یہ ولی کہلاتا ہے۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: ماخلقت الجن والانس الا لیعبدون (الذاریات:۵۷) انسان کو چاہئے کہ وہ اللہ تعالیٰ کے لئے جوش رکھے۔ تب وہ اپنے بانائے جنس سے بڑھ جائے گا اور خداتعالیٰ کی مقرب بندوں میں سے بن جائے گا۔ مردوں میں سے نہیں ہونا چاہیے کہ مردہ کے منہ میں ایک شے ایک طرف سے ڈالی جاتی ہے، تو دوسری طرف سے نکل آتی ہے۔ اسی طرح شقاوت کی حالت میں کوئی اچھی چیز اندر نہیں جاسکتی۔ یادرکھو کہ کوئی عبادت اور صدقہ قبول نہیں ہوتا جب تک کہ اللہ تعالیٰ کے لئے ذاتی جوش نہ ہو۔ جس کے ساتھ