کرتی ہے کہ ہم اللہ تعالیٰ کے سوائے کسی اور کی طرف توجہ کریں۔خدا تعالیٰ آپ ہمارے سب کام بناتا ہے۔
کشف قبور یہ لوگ جو کشف قبور لئے پھرتے ہیں۔یہ سب جھوٹ لغو اور بے ہودہ بات ہے اور شرک ہے۔ہم نے سنا ہے۔اس طرف ایک شخص پھرتا ہے
اور اس کو بڑا دعویٰ کشف قبور کا ہے۔اگر اس کا علم سچا ہے،تو چاہیے کہ وہ ہمارے پاس آئے اور ہم اس کو ایسی قبروں پر لے جائیں گے جن سے ہم خوب واقف ہیں،مگر یہ سب بے ہودہ باتیں ہیں اور ان کے پیچھے پڑنا،وقت کو ضائع کرنا ہے۔سعید آدمی کو چاہیے کہ ایسے خیالا ت میں اپنے وقت کو ضائع نہ کرے۔اس طریق کو اختیار کرے،جو اللہ اور اس کے رسول اور اس کے صحابہ نے اختیار کیا۔
سر ود اس کے بعد مختلف گدی نشینوں کے حالات پر افسوس ہوتا رہا۔جو سرود وغیرہ بدعات میں گرفتار ہیں۔اس پر آپ نے فرمایا کہ:
’’انسان میں ایک ملکہ احتظاظ کا ہوتا ہے کہ وہ سرود سے حظ اٹھاتا ہے اور اس کے نفس کو دھوکہ لگتا ہے کہ میں اس مضمون سے سرور پا رہا ہوں،مگر دراصل نفس کو صرف حظ درکار ہوتا ہے۔خواہ اس میں شیطان کی تعریف ہو یا خدا کی۔جب یہ لوگ اس میں گرفتار ہو کر فنا ہو جاتے ہیں۔تو ان کے واسطے شیطان کی تعریف یا خدا کی ۔سب برابر ہو جاتے ہیں۔‘‘
اس پر آج کی سیر ختم ہوئی۔پھر کھانے کے وقت آپ باہر تشریف لائے اور کھانا کھانے کے بعد حضور اقدس نے ایک تقریر فرمائی۔جو کچھ میںا س میںسے ضبط رکھ سکا وہ لکھتا ہوں۔اس زمانہ کا فتنہ فساد کا ذکر تھا۔فرمایا:
اس زمانہ کی بڑی عبادت ایک مسلمان کے لئے ضروی ہے کہ اس زمانہ کے درمیان جو فتنہ اسلام پر پڑا ہوا ہے،اس کو دورکرنے میں کچھ حصہ
لے۔بڑی عبادت یہی ہے کہ اس فتنہ کو دور کرنے میں ہر ایک مسلمان کچھ نہ کچھ حصہ لے۔اس وقت جو بدیاں اور گستاخیاں پھیلی ہوئی ہیں،چاہیے کہ اپنی تقریر اورعلم کے ذریعے سے اور ہر ایک قوت جو اس کو دی گئی ہے ۔مخلصانہ کوششوں کے ساتھ اس کو دنیا سے اٹھا دے۔اگر اسی دنیا میں کسی کو آرام اور لذت مل گئی،تو کیا فائدہ اگر دنیا میں ہی درجہ پا لیا تو کیا حاصل۔عقبی کا ثواب لو،جس کی انتہا نہیں۔ہر ایک مسلمان کو اللہ کی توحید اور تفرید کے لئے ایسا جوش ہوناچاہیے۔جیسا کہ خود اللہ کو پنی توحید کا ہے۔غور کرو کہ دنیا میں اس طرح کا مظلوم کہاں ملے گا۔جیسا کہ ہمارے نبی کریم صلی اللہ علیہ والہ وسلم ہیں۔کوئی گند اور گالی اور دشنام نہیں جو آپ کی طرف نہ پھینکی گئی ہو ۔کیا یہ وقت ہے کہ مسلمان خاموش ہو کر بیٹھے رہیں؟اگر اس وقت کوئی شخص کھڑا نہیں ہوتا اور حق کی گواہی دے کر جھوٹے کے منہ کو بند نہیں کرتا اور جائز رکھتا ہے کہ کافر لوگ بے حیائی سے ہمارے نبی کریم صلی ا للہ علیہ والہ وسلم پر اتہام لگاتے ہیں اور لوگوں کو گمراہ کرتے جائیں۔تو یاد رکھو کہ بے شک وہ بڑی باز پرس کے نیچے ہے۔چاہیے کہ جوکچھ علم اور واقفیت تمہیں حاصل ہے وہ اس راہ میں خرچ کرو۔اور لوگوں کو اس