کتاب تعلیم لکھنے کی خواہش فرمایا:’’میں چاہتا ہوں کہ ایک کتاب تعلیم کی لکھوں اور مولوی محمد احمد صاحب اس کا ترجمہ
کریں۔اس کتاب کے تین حصے ہوں گے:
ایک یہ کہ اللہ تعالیٰ کے حضور میں ہمارے کیا فرائض ہیں اور دوسرا یہ کہ ہمارے نفس کے کیا کیا حقوق ہم پر ہوں گے۔اور تیسرا یہ کہ بنی نوع انسان کے کیا کیا ھقو ق ہم پر ہوں گے۔‘‘
اولیاء کی کرامات فرمایا:’’زمانہ نبوت تو نور علی نور تھا اور ایک آفتاب تھا،لیکن اس کے بعد کے اولیا ء کے جوخوارق وکرامات بتلائے جاتے ہیں۔وہ اپنے
ساتھ انکشاف نہیں رکھتے اور ان کی تاریخ کا صحیح پتہ نہیں لگ سکتا ؛چنانچہ شیخ عبد القادر جیلانیؒ کی کرامات ان کی وفات کے دو سو سال کے بعد لکھی گئیں اور علاوہ اس کے ان لوگون کو یہ موقعہ دشمن کے مقابلہ کا نہیں ملا اور نہ ان کو ایسا فتنہ در پیش آیا،جیسا کہ ہم کو ۔‘‘
امر مقدر فرمایا:’’ابھی ہمارے مخالفون میں سے بہت سے آدمی ایسے بھی ہیں جن کا ہماری جماعت میں داخل ہو نا مقدر ہے۔وہ مخالفت کرتے ہیں پر فرشتے
ان کو دیکھ کر ہنستے ہیں کہ بالآخر تم ان ہی لوگوں میں شامل ہو جاو گے۔وہ ہماری مخفی جماعت ہے جو کہ ہمارے ساتھ ایک دن مل جائے گی۔‘‘
سیر سے واپس آکر آپ اندر تشریف لے گئے اور کھانے کے وقت دوبارہ تشریف لائے اور ملانوں کی نفس پرستیوںاور طلاق وحلالہ کی منحوس رسومات پر مختلف گفتگو فرماتے رہے۔ظہر اور عصر کی نمازوں میں جماعت کے ساتھ شریک ہوئے پھر شام کی نماز پڑھ لینے کے بعد سے نماز عشاء سے فراغت حاصل کر لینے تک احباب میں تشریف فرما رہے۔ایک دوست کاخط اور دیگر دو اخبارات بعد نماز سنے۔مولوی عبد الکریم صاحب نے میر حامد شاہ صاحب کی ایک نظم سنائی،جس سے آپ بہت خوش ہوئے اور اسے اخبار میں چھپا دینے کا حکم دیا۔وہ نظم یہ تھی ؎
ڈنکا بجا جہاں میں مسیح کے نام کا خاد م ہے دین پاک رسول انام کا
لوقا دوسرے دنصبح نو بجے کی سیر میں لوقا کے ذکر پر جس کا بیان سیالکوٹ کے ایک اخبار میں سے گذشتہ دن سنایا گیا تھا،جس میں مرہم عیسیٰ کے ضمن میں لکھا گیا تھا۔
بہت دیر تک گفتگو ہوتی رہی۔آپ نے مفتی محمد صادق صاحب اور مولوی اللہ دیا لودھیانی کو مزید تحقیقات کا حکم دیا۔دوران گفتگو میں فرمایا:
’’عربی میں لق چٹنی کو کہتے ہیں۔‘‘جس پر مفتی محمد صادق صاحب نے کہا کہ انگریزی میں لق چاٹنے کو کہتے ہیں۔اس پر آپ نے فرمایا کہ بات چٹنی تک تو پہنچ گئی ہے امید ہے کہ مرہم پٹی تک بھی نکل آوے۔فرمایا:انگریزی کتابوں اور تاریخ کلیسا سے اس کے حالات کے متعلق تحقیقات کرنی چاہیے۔یہ ایک نئی بات نکلی ہے۔پھر فرمایا:’’یہ کچھ مشکل امر نہیں ہے۔اگر ہم چاہیں تو لوقا پر توجہ کریں اور اس سے سب حال دریافت کریں،مگر ہماری طبیعت اس امر سے کراہت