اور فصاحت اور بلاغت کے تمام لوازم موجود ہیں۔‘‘
(ایک شخص نے کسی صُوفی گدی نشین کی تعریف کی کہ وہ آدمی بظاہر نیک معلوم ہوتا ہے اوراگر اس کو سمجھایا جائے تو امید کی جاسکتی ہے کہ وہ اس بات کو پاجائے اور عرض کی کہ میرا اس کے ساتھ ایک ایساتعلق ہے کہ اگر حضور مجھے ایک خط اُن کے نام لکھ دیں ، تومَیں لے جائو گا اور امید ہے کہ اُن کو فائدہ ہو۔ اس پر آپؑ نے فرمایا:کہ)
’’آپ دوچاردن اور یہاں ٹھہریں۔ مَیں انتظار کرتا ہوں کہ اللہ تعالیٰ خودبخود استقامت کے ساتھ کوئی بات دل میں ڈال دے ، تومَیں آپ کو لکھ دُوں۔‘‘ پھر فرمایا:
’’جب تک اِن لوگوںکو استقامت ،حُسنِ نیت کے ساتھ چند دن کی صحبت نہ حاصل ہوجائے، تب تک مشکل ہے۔ چاہیے کہ نیکی کے واسطے دل جوش مارے اور خدا کی رضا کے حصول کے لئے دل ترساں ہو۔‘‘
کلمہ طیبہ شجاعت پید اکرتاہے اس شخص نے پھر عرض کی کہ ان لوگوں کو اکثر یہ حجاب بھی ہوتا ہے کہ شاید کسی کومعلوم ہوجائے ، تو لوگ
ہمارے پیچھے پڑجائیں ۔فرمایا:
’’اس کا سبب یہ ہے کہ ایسے لوگ لا الہ اللہ کے قائل نہیں ہوتے اورسچے دل سے اس کلمے کو دل سے نکالنے والے نہیں ہوتے۔‘‘فرمایا:’’جب زید وبکر کا خوف دل میں آتا ہے،تب تک لا الہ لا نقش دل میں نہیں جم سکتا۔‘‘فرمایا:
’’یہ جو دن رات مسلمانوں کو کلمہ پڑھنے کے لئے تحریص و تاکید ہے۔اس کی وجہ یہی ہے کہ بغیر اس کے کوئی شجاعت پیدا نہیںہو سکتی۔جب آدمی لا الہ اللہ کہتا ہے تو تمام انسانوں اور چیزوں اور حاکموں اور افسروں اور دشمنوں اور دوستوں کی قوت اور طاقت ہیچ ہو کر انسان صرف اللہ تعالیٰ وک دیکھتا ہے اور اس کے سوائے سب اس کی نظروں میں ہیچ ہو جاتے ہیں۔پس وہ شجاعت اور بہادری کے ساتھ کام کرتا ہے۔اور کوئی ڈرانے والا اس کو ڈرا نہیں سکتا۔‘‘
فراست فرمایا:’’فراست بھی ایک چیز ہے۔جیسا کہ ایک یہودی نے آنحضرت صلی اللہ علیہ والہ وسلم کو دیکھتے ہی فرما دیا کہ میں ان میں نبوت کے نشان
دیکھتا ہوں اور ایسا ہی مباہلہ کے وقت عیسائی آنحضرت صلی اللہ علیہ والہ وسلم کے مقابل پر نہ آئے،کیونکہ ان کے مشیر نے کہہ دیا تھا کہ میں ایسے منہ دیکھتا ہوں کہ اگر وہ پہاڑ سے کہیں کہ یہاں سے ٹل جا ،تو وہ ٹل جائے گا۔‘‘
فرمایا:’’اگر کسی کے باطن میں کوئی حصہ روحانیت کا ہے،تو وہ مجھ کو قبول کر لے گا۔‘‘