لگا ۔اگر تورایت میں کوئی ایسی تعلیم ہوتی اور قرآن شریف اس کی تصریح ہی کرتا تو نصاری کا وجود ہی کیوں ہوتا ۔
قرآن پاک میں سب سچائیاں ہیں
غرض قرآن شریف نے جس قدر تقویٰ کی راہیں بتلائیں اورہر طرح کے انسانوں اور مختلف عقل والوں کی پرورش کرنے کے طریق سکھلائے ایک جاہل، عالم اور فلسفی کے راستے ہر طبقہ کے سوالات کے جواب۔ غرضیکہ کوئی فرقہ نہ چھوڑا، جس کی اصلاح کے طریق نہ بتائے۔ یہ ایک صحیفہ قدرت تھا۔ جیسے کہ فرمایا فیھا کتب قیمۃ(البینۃ:۴)یہ وہ صحیفے ہیں جن میں کل سچائیاں ہیں۔یہ کیسی مبارک کتاب ہے کہ اس میں سب سامان اعلیٰ درجہ تک پہنچنے کے موجود ہیں۔
مسیح ومہدی
لیکن افسوس ہے کہ جیسے حدیث میں آیا ہے کہ ایک درمیانی زمانہ آوے گا جو فیج عوان ہے۔یعنی حضور علیہ الصلوۃ والسلام نے فرمایا کہ ایک میرا زمانہ برکت والا ہے۔ ایک آنے والے مسیح ومہدی کا، مسیح ومہدی کوئی دو الگ ا شخاص نہیں ان سے مراد ایک ہی ہے۔ مہدی ہدایت یافتہ سے مراد ہے۔ کوئی یہ نہیں کہہ سکتا کہ مسیح مہدی نہیں ۔مہدی مسیح ہو یا نہ ہو، لیکن مسیح کے مہدی ہونے سے انکار کرنا مسلمان کا کام نہیں۔ اصل میں اللہ تعالی نے یہ دو الفاظ سب وشتم کے مقابل بطور ذب کے رکھے ہیں کہ وہ کافر ،ضال، مضل نہیں ،بلکہ مہدی ہے۔ چونکہ اس کے علم میں تھا کہ آنے والا مسیح و مہدی کو دجال و گمراہ کہا جائے گا ،اس لئے اسے مسیح مہدی کہا گیا۔ دجال کا تعلق اخلد الی الارض(الاعراف:۱۷۷)سے تھا اور مسیح کا رفع آسمانی ہونا تھا ۔سو جو کچھ اللہ تعالیٰ نے چاہا اس کی تکمیل دو ہی زمانوں میں ہونی تھی۔ ایک آپ کا زمانہ اور ایک آخری مسیح ومہدی کا زمانہ ،یعنی ایک زمانے میں قرآن اور سچی تعلیم نازل ہوئی۔ لیکن اس تعلیم پر فیج اعوان کے زمانے نے پردہ ڈال دیا۔ جس پردہ کا اٹھایا جانا مسیح کے زمانے میں مقدر تھا۔ جیسے کہ فرمایا کہ رسول صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے ایک تو موجود جماعت یعنی جماعت صحابہ کرام کا تزکیہ کیا اور ایک آنے والی جماعت کا جس کی شان میں لما یلحقو بھم(الجمعہ:۴)آیا ہے۔ یہ ظاہر ہے کہ خدا تعالٰ نے بشارت دی کہ ضلالت کے وقت اللہ تعالیٰ اس دین کو ضائع نہیں کرے گا۔ بلکہ آنے والے زمانے مین خدا تعالیٰ حقائق قرآنیہ کو کھول دے گا ۔آثار میں ہے۔ کہ آنے والے مسیح کی ایک یہ فضیلت ہو گی ۔کہ وہ قرآنی فہم اور معارف کا صاحب ہو گا اور صرف قرآن سے استنباط کرکے لوگوں کو ان کی غلطیوں سے متنبہ کرے گا۔ جو حقائق قرآن کی ناواقفیت سے لوگوں میں پیدا ہو گئی ہوں گی۔
سلسلہ موسویہ ومحمدیہ میں مماثلت
قرآن شریف میں رسول اکرم صلی اللہ علیہ والہ وسلمکو مثیل موسیٰ قرار دے کر فرمایا:انا ارسلنا الیکم رسولا شاھداً علیکم کما ارسلنا الی فرعون رسولاً(المزمل:۱۶)یعنی ہم نے ایک رسول بھیجا ۔جیسے موسیٰ کو فرعون کی طرف بھیجا تھا۔ ہمارا رسول مثیل موسیٰ ہے۔ ایک اور جگہ فرمایا: وعد اللہ الذین آمنو منکم وعملو الصلحت لیستخلفنھم فی الارض کما استخلف الذین من قبلھم (النور:۵۶) کہ اس مثیل موسی کے خلفاء بھی اسی سلسلہ کے ہوں گے۔ جیسے کہ موسی کے خلفاء سلسلہ وار آئے۔