ہرگز نہیں آتا کہ یہ امر کس طرح سے ہوگیا۔ انگریز لوگ ایسے ایسے کرتب شعبدہ بازی ک دکھاتے ہیں کہ مرا ہو اآدمی واپس آجاتا ہے اور ٹوٹی ہوئی چیزیں ثابت دکھائی دیتی ہیں۔ جیس اکہ آئین اکبری میں بھی ابوالفضل نے ایک قصہ بیان کیا ہے کہ ایک شعبدہ باز آسمان پر لوگوں کے سامنے چڑھ گیا اوراُوپر سے اس کے اعضاء ایک ایک ہوکر گِرے اور اُس نے اپنی بیوی کے لئے مُطالبہ کیا ور ایک وزیر پر شُبہ کیا کہ اُس نے چُھپارکھی ہے اور یہ اُس پر عاشق ہے اور پھر اُس کی تلاشی کی اجازت بادشاہ سے لے کر اُسی کی بغل سے نکال لی۔‘‘ فرمایا:’’ ایسی صورتوں میں پھرسوائے اس کے اور کچھ بات بائی نہیں رہتی کہ انسان ایمان سے کام لے اور انبیاء کے کاموں کو خداتعالیٰ کی طرف سے سمجھے اور شعبدہ بازوں کے کاموں کو دھوکا اورفریب خیال کرے اور اس طرح سے یہ معاملہ بہت نازک ہوجاتا ہے۔‘‘ قرآن شریف کا معجزہ لیکن خداتعالیٰ نے قرآن شریف کو جو معجزہ عطافرمایا ہے، وُہ اعلیٰ درجہ کی اخلاقی تعلیم اور اُصولِ تمدن اور اس کی فصاحت  وبلاغت کا ہے جس کا مقابلہ کوئی انسان ہرگز نہیں کرسکتا اور ایسا ہی معجزہ غیب کی خبروں اور پیشگوئیوں کا ہے۔ اس زمانہ کا کوئی شعبدہ بازی کا اُستاد ایسا کرنے کا ہر گز دعویٰ نہیں کرتا۔ اور اس طرح اللہ تعالیٰ نے ہمارے نشانات کو ایک صاف تمیز عطافرمائی ہے، تاکہ کسی شخص کو حیلہ حجت بازی کا نہ رہے اور اس طرح خداتعالیٰ نے اپنے نشانات کھول کھول کر دکھاتے ہیں۔ جن میں کوئی شک وشُبہ اپنا دخل پیدانہیں کرسکتا۔‘‘ (ایک شخص نے عرض کی کہ ایک معترض اعتراض کرت اتھا کہ مرز اصاحب نے لیکھر ام کو خود مرواڈالاہے) فرمایاکہ:’’ یہ ایک بے ہودہ اور جھوٹ بات ہے، مگ ران لوگوں کو یہ تو خیال کرناچاہیے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ابورافع اور کعب کو کیوں قتل کروادیا تھا۔‘‘ فرمایا:’’ہماری سب پیشگوئیاں اقتداری پیشگوئیاں ہیں اور یہ اس بات کانشان ہیں کہ وہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہوتی ہیں۔‘‘ قرآن کریم کی فصاحت وبلاغت فرمایا:’’لوگوں کی فصاحت اوربلاغت الفاظ کے ماتحت ہوتی ہے اور اس میں سوائے قافیہ بندی کے اور کچھ نہیں ہوتا۔ جیسا کہ ایک عرب نے لکھا ہے کہ سافرت الی روم وانا علیٰ جمل ماتوم۔ میں رُوم کو روانہ ہو ااور مَیں ایک ایسے اُونٹ پر سوار ہوا جس کا پیشاب بندتھا۔ یہ الفاظ صرف قافیہ بندی کے واسطے لائے گئے ہیں۔ مگر یہ قرآن شریف کا اعجاز ہے کہ اس میں سارے الفاظ ایسے موتی کی طرح پروئے گئے ہیں اور اپنے مقام پر رکھے گئے ہیں کہ کوئی ایک جگہ سے اُٹھاکر دوسری جگہ نہیں رکھا جاسکتا اور کسی کو دُوسرے لفظ سے بدلا نہیں جاسکتا، لیکن باوجود اس کے قافیہ بندی