پہنچا ہے تو بادشاہ نے کہا کہ میں مدت سے سوچتا تھا اور آہِ سرد بھرتا تھا کہ اتنی بڑی عظیم الشان مسجد جو بنی ہے اور اس عمارت کے ذریعہ سے ہزار ہا مخلوقات کو فائدہ پہنچتا ہے۔ کاش کوئی ایسی تجویز ہوتی کہ کارِ خیر میں کوئی میرا بھی حصہ ہوتا ، لیکن چارون طرف سے مَیں اس کو ایسامکمل اور بے نقص دیکھتاتھا کہ مجھے کچھ سوجھ نہ سکتا تھا کہ اس میں میرا ثواب کسی طرح ہوجائے۔ سو آج خداتعالیٰ نے میرے واسطے حصول ثواب کی ایک راہ نکال دی۔ واللہ سمیع علیم۔‘‘
لیکھرام اورا س کے ساتھی اسلام پر حملہ کرنے میں اور مسلمانوں کے بیجادل دُکھانے میں آریوں کے درمیان ایک طرح کی تریمورتی تھی۔
جن میں سے سب سے بڑھ کر لیکھرام تھا اور اس کے بعد اندر من اور الکھ دھاری تھے۔‘‘فرمایا’’دیانند بھی تھا مگر اس کو ایساموقعہ نہیں تھااور نہ وُہ اس طرح سے کتابیں لکھتاتھا۔ ان تینوں نے اور خصوصاً لیکھرام نے بری بے ادبیاں حضرت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی کی تھیں۔ اللہ تعالیٰ کا طریق ہے کہ جس راہ سے کوئی بدی کرے، اُسی راہ سے گرفتار کیا جاتا ہے ؛ چونکہ لیکھرام نے زبان کی چُھری کو اسلام اورآنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے برخلاف حد سے بڑھ کر چلاتا۔ اس واسطے خداتعالیٰ نے اُس کو چھری سے سزادی۔
لیکھرام کے معاملہ میں غیب کا ہاتھ
لیکھرام کے معاملہ میں غیب کا ہاتھ کام کرتاہوا صاف طور پر دکھائی دیتاہے۔ اس شخص (یعنی قاتل) کا شُدھ ہونے کے لئے اُس کے پاس آنا۔ اُس کا اس پر بھروسہ کرنا۔ یہانتک کہ اپنے گھر میں بلاتکلف اُس کو لے جانا، شام کے وقت دیگرملاقاتوں کا چلاجانا۔ ان کا اکیلا رہ جانا، عین عید کے دُوسرے دن اُس کا اس کام کے لئے عازم ہونا۔لیکھرام کا لکھتے لکھتے کھڑے ہوکر انگڑائی لینا اوراپنے پیٹ کو سامنے نکالنا اورچُھری کا وارکاری پڑنا۔ مرتے دم تک اُس کی زبان کو خدا کا ایسا بند کرنا کہ باوجود ہوش کے اورا س علم کے ہم نے اس کے برخلاف پیش گوئی کی ہوئی ہے۔ ایک سیکنڈ کے واسطے اس شبہ کا اظہار بھی نہ کرنا کہ مجھے مرزا صاحب پر شک ہے۔ پھر آج تک اُس کے قاتل کا پتہ نہ چلنا۔ یہ سب خداتعالیٰ کے فعل ہیں جو ہیبت ناک طورپر اس کی قدرت اور طاقت کا جلوہ دکھارہے ہیں۔‘‘فرمایا:
’’لیکھرام بڑا ہی زبان دراز تھا اور اس کے بعد کوئی ایسا شخص پید انہیں ہوا کیونکہ اذاھلک کسریٰ فلا کسری بعد اب اللہ تعالیٰ زمین کو ایسے لوگوں سے پاک رکھے گا۔‘‘
دیگرانبیاء کے معجزات فرمایا:’’دُنیا کے اندر جو نشانات حضرت موسیٰ ؑ یادیگر انبیاء ؑ نے اس طرح کے دکھائے ۔ جیسا کہ سوٹے سے سانپ بناتا۔
یہ سب شُبہ میں ڈالنے والی باتیں ہیں۔ خصوصاً اس موجودہ زمانہ میں جب کہ ہر طرح کی شعبدہ بازیاں مداری لوگ دکھاتے ہیں کہ انسان کی سمجھ میں