بات ماننے کا وعدہ فرماتا ہے۔ پس شہیداس پہلے مقام پر کھڑا ہوت اہے۔ یعنی انشراح صدر کے ساتھ خداتعالیٰ کی بات مانتا ہے وُہ دوست کے ایلام کو برنگِ انعام مشاہدہ کرتاہے۔
مقامِ صالحیت چوتھا درجہ صالحین کا ہے یہ بھی جب کمال کے درجہ پر ہو، تو ایک نشان اور معجزہ ہوتا ہے۔ کا مل صلاح یہ ہے کہ کسی قسم کا کوئی بھی فساد باقی
نہ رہے۔ بدنِ صالح میں کسی قسم کا کوئی خراب اور زہریلا مادہ نہیں ہوتا، بلکہ جب صاف اور موید صحت مواد اس میں ہو، تو اس وقت صالح کہلاتا ہے۔ جب تک صالح مادہ نہیں، تب تک اس کے لوازم بھی صالح نہیں ہوتے۔یہانتک کہ مٹھاس بھی اُسے کڑوی معلوم ہوتی ہے۔ اسی طرح پر جب تک انسان صالح نہیں بنتا اور ہر قسم کی بدیوں سے نہیں بچتا اور خراب مادے نہیں نکلے، اس وقت تک عبادات کڑوی معلوم ہوتی ہیں۔ نماز پڑھتا ہے ، لیکن اُسے کوئی لذت اور سُرور نہیں آتا۔ وہ ٹکریں مارکر منحوس مُنہ سے سلام پھیر کررخصت ہوتا ہے، لیکن عبادات میں مزا اُسی وقت آتا ہے جب گندے مواد اندرسے نکل جاتے ہیں۔ پھر اُنس اور ذوق شوق پیداہوتا ہے۔ اصلاحِ انسانی اسی درجہ سے شروع ہوتی ہے۔
(اس قدرتقریرکے بعدحضرت مسیح موعود ؑ نے دُعا فرمائی اور جلسہ برخاست ہوگیا)
۱۰؍دسمبر۱۸۹۹ء
بروز اتوار۹؍بجے صُبح۔قادیان
مُفی محمدصادق صاحب سے جولاہور سے تین سال کے اندر طلبِ نشان والی پیشگوئی کے اشتہار کا انگریزی ترجمہ کراکرہمراہ لائے تھے۔ سیرپرجانے سے پہلے فرمایا:’’آپ نے اس کام میں خوب ہمت کی‘‘فرمایا۔
حصُولِ ثواب کی راہ ’’اس میں اللہ تعالیٰ کی حکمتِ ہے کہ ہم نے انگریزی نہیں پڑھی۔ وُہ آپ لوگوں کو ثواب میں شاملِ کرنا چاہتا ہے۔
اگر ہم انگریزی پڑھے ہوئے ہوتے، تو اُردو کی طرح اس کے بھی دوچار صفحے ہم روز لکھ دیا کرتے، مگرخدانے چاہا کہ جیسے آپ ہیں اور مولوی محمدعلی صاحب ہیں آپ لوگوں کو بھی ثواب دیا جائے۔‘‘
(اس پر مفتی محمدصادق صاحب نے عرض کی کہ یہ ہمت اور ثواب تومولوی محمدعلی صاحب کا ہی حصہ ہے۔)
فرمایا:’’عالمگیر کے زمانہ میں مسجد شاہی کوآگ لگ گئی،تولوگ دوڑے دوڑے بادشاہ سلامت کے پاس پہنچے اورعرض کی کہ مسجد کوتو آگ لگ گئی۔ اس خبر کو سُنکر وہ فوراًسجدہ میں گِرا اور شکر کیا۔ حاشیہ نشینوں نے تعجب سے پوچھا کہ حضور سلامت یہ کونساوقت شُکرگذاری کا ہے کہ خانۂ کو آگ لگ گئی اور مسلمانوں کے دلوں کو سخت صدمہ