ابتدائی مدارجِ سلوک میں نماز اور دوسرے اعمال ِ صالحہ ایک قسم کا بوجھ معلوم ہوتے ہیںاور طبیعت میں ایک کسل اور تکلیف محسوس ہوتی ہے لیکن جب انسان خداتعالیٰ سے قوت پاکر اس مقام شہید پر پہنچتا ہے تو اس کو ایسی طاقت اور استقامت دی جاتی ہے کہ اُسے اُن اعمال میں کوئی تکلیف محسوس ہی نہیں ہوتی۔ گویا وہ اُن اعمال پر سوار ہوتا ہے اور صوم، صلوٰۃ، زکوٰۃ، ہمدردیِ بنی نوع، مروت، فتوت غرض تمام اعمالِ صالحہ اور اخلاق فاضلہ کا صدُور قوتِ ایمانی سے ہوتا ہے۔ کوئی مصیبت ، دُکھ اور تکلیف خداتعالیٰ کی طرف قدم اُٹھانے سے اُسے روک نہیں سکتی۔ شہید اُسی وقت کسی شخص کو کہیں گے جب اُس کی قوتِ ایمانی اس سے وہ فعل دکھائے کہ آرام سے ان افعال کا صُدور ہو۔ جیسے پانی اُوپر سے نیچے کو گرتا ہے۔ اسی طرح پر شہید سے اعمالِ صالحہ کا صدُور ہوتاہے۔ شہید اللہ تعالیٰ کو گویا دیکھتا ہے اوراُس کی طاقتوں کا مشاہدہ کرتا ہے ۔جب یہ مقام کامل درجہ پرپہنچے، تو یہ ایک نشان ہوتا ہے۔
ابتلاء اور آزمائش میں شہید کا رویہ بعض آدمی دیکھے گئے ہیں کہ جب کوئی ابتلاء آجائے تو گھبرا اُتھتے ہیں اور خداتعالیٰ
سے شکوہ کرنے لگتے ہیں۔ اُن کی طبیعت میں ایک فسردگی پائی جاتی ہے، کیونکہ وُہ صلح جو کُلّی طورپرخداتعالیٰ سے ہونی چاہیے، اُن کو حاصل نہیں ہوتی۔ خداتعالیٰ سے انسان کی اُسی وقت تک صلح رہ سکتی ہے کہ جب تک اُس کی مانتارہے۔ یہ بھی یادرکھو کہ خداتعالیٰ کا معاملہ ایک دوست کا معاملہ ہے کبی ایک دوست دوسرے کی مان لیتا ہے اور دوسرے وقت اس کو اس دوست کی ماننی پڑتی ہے اور یہ تسلیم خوشی اور انشراح صدر سے ہونی چاہئے نہ کہ مجبوراً۔
اللہ تعالیٰ ایک جگہ قرآن شریف میں فرماتا ہے: ولنبلو نکم بشی من الخوف والجوع (البقرہ:۱۵۶) یعنی ہم آزماتے رہیں گے گے۔ کبھی ڈراکر، کبھی بھُوک سے کبھی مالوں اور ثمرات وغیرہ کا نقصان کرکے۔ یہاں ثمرات میں اولاد بھی داخل ہے اور یہ بھی کہ بری محنت سے کوئی فصل تیا رکی اور یکا یک اُسے آگے لگ گئی اور وُہ تباہ ہوگئی۔ یادیگراُمور کے لئے محنت اور مشقت کی، مگرنتیجہ میں ناکام رہ گیا۔ غرض مختلف قسم کے ابتلاء اور عوارض انسان پر آتے ہیں اور یہ خداتعالیٰ کی آزمائش ہے۔ ایسی صُورت میں جو لوگ اللہ تعالیٰ کی رضاپر راضی اور اس کی تقدیر کے لئے سرِ تسلیم خم کرتے ہیں۔ وُہ بڑی شرح صدر سے کہتے ہیں۔ انا للہ واناالیہ راجعون(البقرہ:۱۵۷) کسی قسم کا شکوہ اورشکایت یہ لوگ نہیں کرتے۔ ایسے لوگوں کی نسبت اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:اُولٰئک علیھم صلوٰت۔الخ یعنی ہی وہ لوگ ہیں جن کے حصہ میں اللہ تعالیٰ کی خاص رحمت آتی ہے۔ اللہ تعالیٰ انہیں لوگوں کو مشکلات میں راہ دکھادیتا ہے۔ یادرکھو کہ اللہ تعالیٰ بڑ اہی کریم ورحیم اور بامروت ہے۔ جب کوئی شخص اس کی رضاکومقدم کرلیتا ہے اوراُس کی مرضی پر راضی ہوجاتا ہے تو وہ اُس کو اُس کا بدلہ دیئے بغیر نہیں چھوڑتا۔ غرض یہ تو وُہ مقام اور مرحلہ ہے جہاں وُہ اپنی بات منوانی چاہتا ہے۔ دوسرا مقام اور مرحلہ وُہ ہے جو اس نے ادعونی استجب لکم (المومن:۶۱) میں فرمایا ہے۔ یہاں وہ بندے کی