ایک خبط سمایا ہوا ہے کہ وُہ انگریز افسروں پر آکر حملے کرتے ہیں اوراپنی شوریدہ سری سے اسلام کوبدنام کرتے ہیں۔انہوں نے سمجھ لیا ہے کہ اگر ہم کسی کافر یا غیر مذہب والے کو ہلاک کردیں گے، تو ہم غازی ہوں گے اور اگر مارے جائیں گے تو شہید ہوں گے۔ مجھے ان کمینہ فطرت مُلانوں پر بھی افسوس ہے، جوان شوریدہ سرپٹھانوںکو اُکساتے ہیں۔ وُہ انہیں نہیں بتاتے کہ تم اگرکسی شخص کو بلاوجہ قتل کرتے ہو،کیونکہ اللہ تعالیٰ تو فرماتا ہے لاتلقوا بایدیکم الی التحلکۃ (البقرہ:۱۹۶) وُہ اپنے آپ کو خود ہلاکت میں ڈالتے ہیں اور فساد کرتے ہیں۔ مَیں یقین رکھتا ہوں کہ وہ سخت سزا کے مستوجب ہیں۔ غرض عام لوگوں نے تو شہادت یہی سمجھ رکھی ہے اور شہید کا یہی مقام ٹھہرالیاہے۔ مگر میرے نزدیک شہید کی حقیقت قطع نظر اس کے کہ اس کا جسم کاٹا جائے کچھ اور بھی ہے اور ایک کیفیت ہے ، جس کا تعلق دل سے ہے۔ یادرکھو کہ صدیقی نبی سے ایک قرب رکھتا ہے اور وہ اس سے دُوسرے درجے پر ہوتا ہے اور شہید صدیق کا ہمسایہ ہوتا ہے۔ نبی میں تو سارے کمالات ہوتے ہیں، یعنی وہ صدیقی بھی ہوتا ہے اور شھیدبھی ہوتا ہے اور صالح بھی ہوتا ہے۔ لیکن صدیق اور شہید دو الگ الگ مقام ہیں۔ اس بحث کی بھی حاجت نہیں کہ آیا صدیق ، شہید ہوت اہے یا نہیں؟ وُہ مقام کمال جہاں ہر ایک امر خارق عادت اور معجزہ سمجھاجاتا ہے۔ وُہ ان دونوں مقاموں پر اپنے رُتبہ اور درجہ کے لحاظ سے جدا ہے۔ اس لیے اللہ تعالیٰ اُسے ایسی قوت عطاکرتا ہے کہ جو عمدہ اعمال ہیں اور جو عمدہ اخلاق ہیں۔ وہ کامل طور پر اور اپنے اصلی رنگ میں اس سے صادر ہوتے ہیں اور بلاتکلف صادر ہوتے ہیں۔ کوئی خوف اور رجاء اُن اعمالِ صالحہ کے صدُور کا باعث نہیں ہوتا، بلکہ وُہ اُس کی فطرت اور طبیعت کاجُزوہوجاتے ہیں۔ تکلف اُس کی طبیعت میں نہیں رہتا۔ جیسے ایک سائل کسی شخص کے پا س آوے، تو خواہ اُس کے پا س کچھ ہو یا نہ ہو، تو اُسے دینا ہی پڑے گا۔ اگر خدا کے خوف سے نہیں تو خلقت کے لحاظ سے ہی سہی۔ مگر شہید میں اس قسم کا تکلف نہیں ہوتا اور یہ قوت اور طاقت اُس کی بڑھتی جاتی ہے اور جُوں جُوں بڑھتی جاتی ہے۔ اسی قدر اس کی تکلیف کم ہوتی جاتی ہے اور وُہ بوجھ کا احساس نہیں کرتا۔ مثلاً ہاتھی کے سرپر ایک چیونٹی ہوتو وُہ اس کا کیا احساس کرے گا۔
کیا کِسی مقام پر نماز ساقط ہوجاتی ہے؟
’’فتوحاتِ مکیہ‘‘ کی ایک عبارت کی تشریح
فتوحات میں اس مقام کی طرف اشارہ کرکے ایک لطیف بات لکھی ہے۔ اور وُہ یہ ہے کہ جب انسان کامل درجہ پر پہنچتا ہے، تو اُس کے لئے نماز ساقط ہوجاتی ہے، جاہلوں نے اس سے یہ سمجھ لیا ہے کہ نماز ہی معاف ہوجاتی ہے۔ جیساکہ بعض بے قید فقیر کہتے ہیں ۔ اُن کو اس مقام کی خبر نہیں اور اس لطیف نکتہ پر اطلاع نہیں۔ اصل بات یہ ہے کہ