ترجمہ:اللہ تعالیاور اس کے تمام فرشتے رسول پردرودبھیجتے ہیں۔ اے ایمان والو ـ!تم درودواسلام بھیجو نبی ؑ پر۔ اس آیت سے ظاہر ہوتا ہے کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ والہ وسلمکے اعمال ایسے تھے کہ اللہ تعالیٰ نے ان کی تعریف یا اوصاف کی تحدید کرنے کے لئے کوئی لفظ خاص نہ فرمایا۔ لفظ تو مل سکتے تھے ،لیکن خود استعمال نہ کیے۔ یعنہ آپ کے اعمال صالحہ کی تعریف تحدید سے بیرون تھی۔ اس قسم کی آیت کسی اور نبی کی شان میں استعمال نہ کی ۔آپ کی روح میں وہ سدق و وفا تھا اور آپ کے اعمال خدا کی نگاہ میں اس قدر پسندیدہ تھے کہ اللہ تعالیٰ نے ہمیشہ کے لئے یہ حکم دیا کہ آئیندہ لوگ شکر گزاری کے طور پر درود بھیجیں۔ آپ کی ہمت وصدق وہ تھا کہ اگر ہم اوپر یا نیچے نگاہ کریں تو اس کی نظیر نہیں ملتی۔ خود حضرت مسیح کے وقت کو دیکھ لیا جاوے کہ ان کی ہمت یا روحانی سدق وفا کا کہاں تک اثر ان کے پیرووں پہ ہوا۔ ہر ایک سمجھ سکتا ہے کہ ایک بدو باش کو درست کرناکس قدر مشکل ہے۔عادات راسخہ کا گنوانا کیسا محلات سے ہے ۔لیکن ہمارے مقدس نبی آنحضرت صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے تو ہزاروں انسانوں کو درست کیا،جو حیوانوں سے بد تر تھے بعض ماؤں اور بہنوں میں حیوانوں کی طرح فرق نہیں کرتے تھے یتیموں کا مال کھاتے۔ مردوں کا مال کھاتے۔ بعض ستارہ پرست ،بعض دہریہ، بعض عناصر پرست تھے ۔جزیرہ عرب کیا تھا۔ ایک مجموعہ مذاہب اپنے اندر رکھتا تھا ۔ قرآن مجید کامل ہدایت ہے اس سے بڑا فائدہ یہ ہوا کہ قرآن کریم ہر ایک قسم کی تعلیم اپنے اندر رکھتا ہے۔ ہر ایک غلط عقیدہ یا بری تعلیم جو دنیا میں ممکن ہے ،اس کے استیصال کے لئے کافی تعلیم اس میں موجود ہے۔ یہ اللہ تعالیٰ کی عمیق حکمت و تصرف ہے۔ چونکہ کامل کتاب نے آکر کامل اصلاح کرنی تھی ۔ضرور تھا کہ اس کے نزوک کے وقت اس کے جائے نزول میں بیماری بھی کامل طور پر ہو۔ تا کہ ہر بیماری کا کامل علاج مہیا کیا جاوے۔ جو اس وقت یا اس کے بعد آئندہ نسلوں کو لاحق ہونے والی تھیں ۔یہی وجہ تھی کہ قرآن شریف نے کل شریعت کی تکمیل کی۔ دوسری کتابوں کے نزول کے وقت نہ یہ ضرورت تھی نہ ان میں ایسی کامل تعلیم ہے ۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ والہ وسلم کا عظیم الشان معجزہ ہمارے نبی اکمل ؐ کی برکات جس قدر ظہور میں آئیں ۔اگر تمام خوارق کو الگ کر دیا جائے، تو صرف آپ کی اصلاح ہی ایک عظیم الشان معجزہ ہے ۔اگر کوئی اس حالت پہ غور کرے، جب آپ آئے۔ پھر اس حالت کو دیکھے جو آپ چھوڑ گئے۔تو اس کو ماننا پڑے گا کہ یہ اثر بزات خود ایک اعجاز تھا ؛اگرچہ کل انبیا عزت کے قابل ہیں لیکن ذالک فض اللہ یوتیہ من یشاء( الجمعہ:۵) اگر آنحضرت صلی اللہ علیہ والہ وسلم تشریف نہ لاتے ،تو نبوت تو درکنار خدائی کا ثبوت بھی اس طرح نہ ملتا۔ آپ ہی کی تعلیم سے قل ھو اللہ احد اللہ الصمد لم یا لد ولم یولد ولم یکن اللہ کفواً احد (الاخلاص)کا پتہ