ایمان کو اپنے اندر داخل نہ کرے۔محض قول سے کچھ نہیں بنتا اور بہانہ سازی اس وقت تک دور ہی نہیں ہوتی۔عملی طور پر جب مصیبت کا وقت ہو۔تو اس وقت ثابت قدم نکلنے والے تھوڑے ہی ہوتے ہیں۔حضرت مسیح کے حواری اس آخری گھڑی میں جو ان کی مصیبت کی گھڑی تھی ۔انہیں تنہا چھوڑ کر بھاگ نکلے اور بعض نے تو منہ کے سامنے ہی آپ پر *** کر دی۔
حقیقت میں یہ بڑی غیرت کا مقام ہے۔حضرت امام حسینؓ پر بھی ایک ایسا وقت آیا تھا کہ جب مسلم نے۷۰ ہزار آدمیوں کو نماز پڑھائی اور ان سے حضرت امام حسین کی رفاقت کا عہد لیا،مگر جب کسی شخص نے یزید کے آنے کی خبر دی تو سب کے سب آپ کو تنہا چھوڑ گئے۔
عمل ایمان کا زیور ہے اس قسم کے واقعات بہت ڈراتے ہیں،اس لئے اپنے ایمانوں کو وزن کر و۔عمل ایمان کا زیور ہے۔اگر انسان کی عملی
حالت درست نہیں،تو ایمان بھی نہیں ہے۔مومن حسین ہوتا ہے۔جس طرح ایک خوبصورت انسان کو معمولی اور ہلکا سا زیور بھی پہنا دیا جائے تو وہ اسے زیادہ خوبصورت بنا دیتا ہے۔اگر وہ بد عمل ہے تو پھر کچھ بھی نہیں۔انسان کے اندر جب حقیقی ایمان پیدا ہو جاتا ہے،تو اس کو اعمال میں ایک خاص لذت آتی ہے۔اور اس کی معرفت کی آنکھ کھل جاتی ہے۔وہ اس طرح نماز پڑھتا ہے،جس طرح نماز پڑھنے کا حق ہوتا ہے۔گناہوں سے اسے بیزاری پیدا ہو جاتی ہے۔ناپاک مجلس سے نفرت کرتا ہے اور اللہ تعالیٰ اور رسول کی عظمت اور جلال کے اظہار کے لئے اپنے دل میں ایک خاص جوش اور تڑپ پاتا ہے۔ایسا ایمان اسے حضرت مسیح کی طرح صلیب پر بھی چڑھنے سے نہیں روکتا۔وہ خدا تعالیٰ کے لئے اور صرف خدا تعالیٰ کے لئے حضرت ابراہیم ؑ کی طرح آگ میں بھی پڑ جانے سے راضی ہوتا ہے۔جب وہ اپنی رضا کو رضائے الہی کے ماتحت کر دیتا ہے تو پھر اللہ تعالیٰ جو علیم بذات الصدور ہے،اس کا محافظ اور نگران ہو جاتا ہے اور اسے صلیب پر سے بھی زندہ اتار لیتا ہے اور آگ میں سے بھی صحیح سلامت نکال لاتا ہے،مگر ان عجائبات کو وہی لوگ دیکھا کرتے ہیں،جو اللہ تعالیٰ پر پورا ایمان رکھتے ہیں۔
غرض حضرت ابو بکر صدیقؓ کا صدق اس مصیبت کے وقت ظاہر ہوا جب آنحضرت صلی اللہ علیہ والہ وسلم کا محاصرہ کیا گیا۔گو بعض کفا ر کی رائے اخراج کی بھی تھی۔مگر اصل مقصد اور اصل رائے آپ کے قتل پر تھی۔ایسی حالت میں حضرت ابوبکر صدیق نے اپنے صدق اور وفا کا وہ نمونہ دکھایا۔جو ابدا لآباد تک کے لئے نمونہ رہے گا۔اس مصیبت کی گھڑی میںآنحضرت صلی اللہ علیہ والہ وسلم کا یہ انتخاب ہی حضرت ابو بکر صدیقؓ کی صداقت اور اعلی وفاداری کی ایک زبر دست دلیل ہے۔دیکھو۔اگر وائسرائے ہند کسی شخص کو کسی خاص کام کے لئے انتخاب کر لے تو اس کی رائے صائب اور بہتر ہو گی یا ایک چوکیدا ر کی۔ماننا پڑے گا کہ وائسرائے کا انتخاب بہر حال موزوں اور