مناسب ہو گا،کیونکہ جس حال میں کہ وہ سلطنت کی طرف سے نائب السلطنت مقرر کیا گیا ہے اور اس کی وفاداری،فراست اور پختہ کاری پر سلطنت نے اعتماد کیا ہے۔تب ہی تو زمام سلطنت اس کے ہاتھ میں دی ہے۔پھر اس کی صائب تدبیری اور معاملہ فہمی کو پس پشت ڈال کر ایک چوکیدار کے انتخاب اور رائے کو صحیح سمجھ لینا نامناسب امر ہے۔ ہجرت میں رفاقت کے لئے حضرت ابو بکرؓ کے انتخاب کا سر یہی حال آنحضرت صلی الہ علیہ والہ وسلم  کے انتخاب کا تھا۔اس وقت آپ کے پاس ستر اسی صحابہ موجود تھے،جن میں حضرت علی ؓ بھی تھے،مگر ان سب میں سے آپ نے اپنی رفاقت کے لئے حضرت ابو بکر صدیق ؓ کو ہی انتخاب کیا۔اس میں کیا سر ہے؟بات یہ ہے کہ نبی خدا تعالیٰ کی آنکھ سے دیکھتا ہے اور اس کا فہم اللہ تعالیٰ ہی کی طرف سے آتا ہے،اس لئے اللہ تعالیٰ ہی نے آنحضرت صلی اللہ علیہ والہ وسلم کو کشف کے ذریعے اور الہام سے بتا دیا کہ اس کام کے لئے سب سے بہتر اور موذون حضرت ابو بکر صدیقؓ ہی ہیں ۔ابو بکرؓاس ساعت عسر میں آپ کے ساتھ ہوئے۔یہ وقت خطر ناک آزمائش کا تھا۔حضرت مسیح ؑپر جب اس قسم کا وقت آیا،تو ان کے شاگرد ان کو چھوڑ کر بھاگ گئے ،اور ایک نے تو *** بھی کی۔مگر صحابہ کرام میں سے ہر ایک نے پوری وفاداری کا نمونہ دکھایا۔ غرض حضرت ابو بکر نے آپ کا پورا ساتھ دیا اور ایک غار میں جس کوغار ثور کہتے ہیں۔آپ جا چھپے۔شریر کفار جو آپ کو ایذارسانی کے لئے منصوبے کر چکے تھے،تلاش کرتے ہوئے اس غار تک پہنچ گئے۔حضرت ابو بکر صدیقؓ نے عرض کی کہ اب تو یہ بالکل ہی سر پر آپہنچے ہیں اور اگر کسی نے ذرا بھی نیچے نگاہ کی تو وہ دیکھ لے گا اور ہم پکڑے جائیں گے۔اس وقت آپ نے فرمایا۔لا تحزن ان اللہ معنا(التوبہ:۴۰)کچھ غم نہ کھاؤ۔اللہ تعالیٰ ہمارے ساتھ ہے۔اس لفظ پر غور کرو کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ والہ وسلم حضرت ابو بکر صدیق کو اپنے ساتھ ملاتے ہیں؛چنانچہ فرمایا۔ان اللہ معنا۔معنا میں آپ دونوں شریک ہیں۔یعنی اللہ تعالیٰ تیرے اور میرے ساتھ ہے۔اللہ تعالیٰ نے ایک پلہ پر آنحضرت صلی اللہ علیہ والہ وسلم کو اور دوسرے پر حضرت ابو بکر صدیق ؓ کو رکھا ہے۔اس وقت دونوں ابتلا ء میں ہیں۔کیونکہ یہی وہ مقام ہے جہاں سے یا تو اسلام کی بنیاد پڑنے والی ہے یا خاتمہ ہو جانے والاہے ۔دشمن غار پر موجود ہیں اور مختلف قسم کی رائے زنیاں ہو رہی ہیں۔بعض کہتے ہیں کہ ا س غار کی تلاشی کرو۔کیونکہ نشان پا یہاں تک ہی آکر ختم ہو جا تا ہے۔لیکن ان میں سے بعض کہتے ہیں کہ یہاں انسان کا گزر اور دخل کس طرح ہو گا۔مکڑی نے جالا تنا ہوا ہے،کبوتر انڈے دئے ہوئے ہیں۔اس قسم کی باتوں کی آوازیں اندر پہنچ رہی ہیں اور آپ بڑی صفائی سے ان کو سن رہے ہیں ۔ایسی حالت میں دشمن آئے ہیں کہ خاتمہ کرنا چاہتے ہیں۔اور دیوانے کی طرح بڑھتے ہوئے آئے ہیں،لیکن آپ کے کمال شان کو دیکھو کہ دشمن سر پر ہے اور آپ اپنے رفیق صادق کو فرماتے ہیں۔لا تحزن ان اللہ معنا۔یہ الفاظ بڑی صفا ئی کے ساتھ ظاہر کرتے ہیں آپ نے زبان ہی سے فرمایا۔کیونکہ یہ آواز کو چاہتے ہیں۔اشارہ سے کام نہیں چلتا باہر دشمن مشورہ کر