ہے۔آپ نے یہ سنتے ہی فرمایا کہ اگر اس نے یہ دعویٰ کیا ہے،تو بلا شبہ وہ سچا ہے۔اسی ایک واقعہ سے معلوم ہوتا ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ والہ وسلم پر آپ کو کس قدرحسن ظن تھا۔معجزے کی بھی ضرورت نہیں سمجھی اور حقیقت بھی یہی ہے کہ معجزہ وہ شخص مانگتا ہے جو مدعی کے حالات سے ناواقف ہو اور جہاں غیرت ہو اور مزید تسلی کی ضرورت ہو،لیکن جس شخص کو حالات سے پوری واقفیت ہو تو اسے معجزے کی ضرورت ہی کیا ہے۔الغرض حضرت ابو بکر صدیقؓ راستہ میں ہی آنحضرت صلی اللہ علیہ والہ وسلم کا دعویٰ نبوت سن کر ایمان لے آئے۔پھر جب مکہ میں پہنچے تو آنحضرتؐکی خدمت مبارک میں حاضر ہو کر دریافت کیا کہ آپ نے نبوت کا دعویٰ کیا ہے؟آنحضرت صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے فرمایا کہ ہاں یہ درست ہے ۔اس پرحضرت ابو بکر صدیق نے کہا کہ آپ گواہ رہیں کہ میں آپ کا پہلا مصدق ہوں۔آپؓ کا ایسا کہنا محض قول ہی قول نہ تھابلکہ آپ نے اپنے افعال سے اسے ثابت کر دکھایا اور مرتے دم تک اسے نبھایا اور بعد مرنے کے بھی ساتھ نہ چھوڑا۔ قول اور فعل میں مطابقت درحقیقت اس امر کی بہت بڑی ضرورت ہے کہ انسان کا قول اور فعل باہم مطابقت رکھتے ہوں۔اگر ان میں  مطابقت نہیں تو پھر کچھ بھی نہیں۔اس لئے اللہ تعالیٰ نے قرآن شریف میں فرمایا:اتامرون الناس بالبر وتنسون انفسکم(البقرہ:۴۵)یعنی تم لوگوں کو تو نیکی کا امر کرتے ہو،مگر اپنی جانوں کو اس نیکی کے امر کا مخاطب نہیں بناتے،بلکہ بھول جاتے ہو۔اور پھر دوسری جگہ فرمایا:لم تقولون مالا تفعلون(الصف:۳)مومن کو دو رنگی نہیں اختیار کرنی چاہیے۔بزدلی اور نفاق ہر دو مومن سے دور رہتے ہیں۔ہمیشہ اپنے قول اور فعل کو درست اور مطابق رکھو۔جیسا کہ صحابہ کرامؓ نے اپنی زندگیوں میں کر کے دکھا دیا،ایسا ہی تم بھی ان کے نقش قدم پر چل کر اپنے صدق اور وفا کے نمونے دکھاو۔ حضرت ابو بکر صدیقؓ کا نمونہ اپنے سامنے رکھو حضرت ابو بکرصدیقؓ کا نمونہ ہمیشہ اپنے سامنے رکھو۔آنحضرت  صلی اللہ علیہ والہ وسلم کے اس زمانے پر غور کرو کہ جب دشمن قریش ہر طرف سے شرارت پر تلے ہوئے تھے اور انہوں نے آپ کے قتل کا منصوبہ کیا۔وہ زمانہ بڑا ابتلا کا زمانہ تھا۔اس وقت حضرت ابو بکر صدیقؓ نے جو حق رفاقت ادا کیا۔اس کی نظیر دنیا میں نہیں پائی جاتی۔یہ طاقت اور قوت بجز صدق ایمان کے ہر گز نہیں آسکتی۔آج جس قدر تم لوگ بیٹھے ہوئے ہو۔اپنی اپنی جگہ سوچو کہ اگر اس قسم کا کوئی ابتلاء ہم پر آجائے۔تو کتنے ہیں جو ساتھ دینے کو تیار ہوں۔مثلاً گورنمنٹ کی طرف سے ہی تفتیش شروع ہو جائے کہ کس کس شخص نے اس شخص کی بیعت کی ہے،تو کتنے ہون گے جو دلیری کے ساتھ یہ کہہ دیں کہ ہم مبایعین میں داخل ہیں۔میں جانتا ہون کہ یہ بات سن کر بعض لوگوں کے ہاتھ پاوں سن ہو جائیں گے اور ان کو فوراً اپنی جائدادوںاور رشتہ داروں کا خیال آجائے گاکہ ان کو چھوڑنا پڑے گا۔ مشکلات کے وقت ہی ساتھ دینا ہمیشہ کامل الایمان لوگوں کا کام ہوتا ہے،اس لئے جب تک انسان عملی طور پر