ساتھ استغفار کرے اور خدا تعالیٰ سے دعائیں کرے،تا کہ اس معصیت اور اس کے برے نتیجہ سے بچ جاوے جو اس بدظنی کے پیچھے آنیوالا ہے۔اس کو کبھی بھی معمولی چیز نہیں سمجھنا چاہیے۔یہ بہت ہی خطرناک بیماری ہے جس سے انسان بہت جلد ہلاک ہو جاتا ہے۔ غرض بد ظنی انسان کو تباہ کر دیتی ہے۔یہاں تک لکھاہے کہ جب دوزخی لوگ جہنم میںڈالے جائیں گے،تو اللہ تعالیٰ ان سے یہی فرمائے گا کہ تم نے اللہ تعالیٰ پر بد ظنی کی۔بعض لوگ اس خیال سے بھی ہیں کہ اللہ تعالیٰ خطا کاروں کو معاف کر دے گا اور نیکو کاروں کو عذاب دے گا۔ایسا خیال بھی بد ظنی ہے۔اس لئے اس کے صفت عدل کے سراسر خلاف ہے۔گویا نیکی اور اس کے نتائج جو قرآن شریف میں اس نے مقرر فرمائے ہیں،بالکل ضائع کر دینا اور بے سود ٹھہرانا ہے۔پس خوب یاد رکھو کہ بدظنی کا انجام جہنم ہے۔اس کو معمولی مرض نہ سمجھو۔بد ظنی سے نا امیدی اور نا امیدی سے جرائم اور جرائم سے جہنم ملتا ہے۔بد ظنی صدق کی جڑ کاٹنے والی چیز ہے۔اس لئے تم اس سے بچو اور صدیق کے کمالات حاصل کرنے کے لئے دعائیں کرو۔ حضرت ابو بکر صدیق ؓ کا بے نظیر صدق آنحضرت صلی ا للہ علیہ والہ وسلم نے حضرت ابو بکر رضی اللہ عنہ کو صدیق کا خطاب دیا ہے، تو اللہ تعالیٰ ہی بہتر جانتا ہے کہ آپ میں کیا کیا کمالات تھے۔آنحضرت صلی ا للہ علیہ والہ وسلم نے یہ بھی فرمایاہے کہ حضرت ابو بکر رضی اللہ عنہ کی فضیلت اس چیز کی وجہ سے ہے جو اس کے دل کے اندر ہے اور اگر غور سے دیکھا جائے تو حقیقت میں حضرت ابو بکرصدیق نے جو صدق دکھایا،اس کی نظیر ملنی مشکل ہے۔اور سچ تو یہ ہے کہ ہر زمانہ میں جو شخص صدیق کے کمالات ھاصل کرنے کی خواہش کرے اس کے لئے یہ ضروری ہے کہ ابو بکری خصلت اور فطرت کو اپنے اندر پیدا کرنے کے لئے جہاں تک ممکن ہو مجاہدہ کرے اور پھر حتیٰ المقدور دعا سے کام لے۔جب تک ابو بکری فطرت کا سایہ اپنے اوپر ڈال نہیں لیتا اور اسی رنگ میں رنگین ہو جاتا ۔صدیقی کمالات حاصل نہیں ہو سکتے۔ ابو بکری فطرت کیا ہے؟ ابو بکری فطرت کیا ہے؟اس پر مفصل بحث اور کلام کا یہ موقعہ نہیں،کیونکہ اس کی تفصیلی بیان کیلئے بہت وقت درکار ہے۔میں مختصراً ایک واقعہ بیان کر دیتا ہوں اور وہ یہ کہ جب آنحضرت صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے نبوت کا اظہار فرمایا۔اس وقت حضرت ابو بکرؓ شام کی طرف سوداگری کرنے کے لئے گئے ہوئے تھے۔جب واپس آئے،تو ابھی راستے میں ہی تھے کہ ایک شخص آپ سے ملا۔آپ نے اس سے مکہ کے حالات دریافت فرمائے اور پوچھا کہ کوئی تازہ خبر سناو۔ جیسا کہ قاعدہ کی بات ہے کہ جب ناسان سفر سے واپس آتا ہے،تو راستہ میں اگر کوئی اہل وطن مل جائے۔تو اس سے اپنے وطن کے حالات دریافت کرتا ہے۔اس شخص نے جواب دیا کہ نئی بات یہ ہے کہ تیرے دوست محمد نے پیغمبری کا دعویٰ کیا