اپنی والدہ صاحبہ کی نصیحت کا ذکر کر دیا اور کہا کہ میں طلب دین کے لیے گھر سے نکلاہوں،اگر پہلی ہی منزل پر جھوٹ بولتا تو پھر کیا حاصل کر سکتا ۔اس لئے میں نے سچ کو نہیں چھوڑا ۔جب آپ نے یہ بیان فرمایا،تو قزاقوں کا سردار چیخ مار کر رو پڑا اور آپ کے قدموں میں گر گیا اور اپنے سابقہ گناہوں سے توبہ کی۔کہتے ہیں کہ آپ کا سب سے پہلا مرید یہی شخص تھا۔ غرض صدق ایسی شے ہے جو انسان کو مشکل سے مشکل وقت میں بھی نجات دلا دیتی ہے۔سعدی نے سچ کہا ہے کی ؎ کس ندیدم کہ گم شد از راہ راست۔پس جس قدر انسان صدق کو اختیار کرتا ہے اور صدق سے محبت کرتا ہے اسی قدر اس کے دل میں خدا تعالیٰ کے کلام اور انبیاء کی محبت اور معرفت پیدا ہوتی ہے۔کیونکہ وہ تمام راسبازوں کے نمونے اور چشمے ہوتے ہیں۔کونو مع الصدقین(التوبہ:۱۱۹)کا ارشاد اسی اصول پر ہے۔ صدیق پر قرآن کریم کے معارف کا فیضان مختصر یہ کہ دوسرا کمال انعمت علیہم میں صدیقوں کا کمال ہے اور اس کمال کے حاصل کرنے پر قرآن شریف کے حقائق اور معارف کھلتے ہیں،لیکن یہ فضل اور فیض بھی محض تائید الہی سے آتا ہے۔ہمارا تو مذہب یہ ہے کہ خدا تعالیٰ کی تائید اور فضل کے بغیر ایک انگلی کا ہلانا بھی مشکل ہے۔ہاں یہ انسان کا فرض ہے کہ سعی اور مجاہدہ کرے۔جہاں تک اس سے ممکن ہو اور اس کی توفیق بھی خدا تعالیٰ سے ہی چاہی۔کبھی اس سے مایوس نہ ہو۔کیونکہ مومن کبھی مایوس نہیں ہوتا ۔جیسا کہ خود بھی خدا تعالیٰ نے فرمایا ہے۔لا یا یئس من روح اللہ الا القوم الکفرون(یوسف:۸۸)اللہ تعالیٰ کی رحمت سے کافر ناامید ہوتے ہیں۔نا امیدی بہت ہی بری بلا ہے۔اصل میں نا امید وہ ہوتا ہے،جو خدا تعالیٰ پر بدظنی کرتا ہے۔  بد ظنی صدق کی جڑ کاٹنے والی چیز ہے یہ خوب یاد رکھو کہ ساری خرابیاں اور برائیاں بد ظنی سے پیدا ہوتی ہیں۔اس لئے اللہ تعالیٰ نے اس سے بہت منع فرمایا ہے اور پھر فرمایا کہ ان بعض الظن اثم(الحجرات:۱۳)اگر مولوی لوگ ہم سے بد ظنی نہ کرتے اور صدق و استقلال کے ساتھ وہ ہماری باتیں سنتے،ہماری کتابیں پڑھتے اور ہمارے پاس رہ کر ہمارے حالات کا مشاہدہ کرتے،تو ان الزامات کو جو وہ ہم پر لگاتے ہین،ہر گز نہ لگاتے۔لیکن جب انہوں نے خدا تعالٰی کے ارشاد کی عظمت نہ کی اور اس پر کار بند نہ ہوئے،تو اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ مجھ پر بد ظنی کی اور میری جماعت پر بھی بد ظنی کی اور جھوٹے الزامات اور اتہامات لگانے شروع کر دئے۔یہاں تک کہ بعض نے بڑی بے باکی کے ساتھ لکھ دیا کہ یہ تو دہریوں کا گروہ ہے اور یہ لوگ نمازیں نہیں پڑھتے۔روزے نہیں رکھتے۔وغیرہ وغیرہ۔اب اگر وہ اس بد ظنی سے بچتے تو ان کو جھوٹ کی *** کے نیچے نہ آنا پڑتا اور وہ اس سے بچ جاتے۔میں سچ کہتا ہوں کہ بد ظنی بہت ہی بری بلا ہے جو انسان کے ایمان کو تباہ کر دیتی ہے اور صدق اور راستی سے دور پھینک دیتی ہے اور دوستوں کو دشمن بنا دیتی ہے۔صدیقوں کے کمال حاصل کرنے کے لئے ضروری ہے کہ انسان بد ظنی سے بہت ہی بچے۔اور اگر کسی کی نسبت کو ئی سوء ظن پیدا ہو،تو کثرت کے