سبیل ہے کہ خداتعالیٰ کے ساتھ اس کا معاملہ صاف ہواور وہ اس کا سچا اور مخلص بندہ بن جائے۔اس کے لیے ضروری ہے کہ وہ صدق کو اختیار کرے۔جسمانی نظام کی کل بھی صدق ہی ہے ۔جو لوگ صدق کو چھوڑ دیتے ہں اور خیانت کر کے جرائم کو پناہ میں لانے والی سپر کذب کو خیال کرتے ہیں۔وہ سخت غلطی پر ہیں۔  کذب اختیار کرنے سے انسان کا دل تاریک ہو جاتا ہے آنی اور عارضی طور پر ممکن ہے اس سے کسی انسان کو کچھ فائدہ حاصل ہو جائے،لیکن فی الحقیقت کذب کے اختیار کرنے سے انسان کا دل تاریک ہو جاتا ہے اور اندر ہی اندرسے ایک دیمک لگ جاتی ہے۔ایک جھُوٹ کے لیے پھر اسے بہت سے جھُوٹ تراشنے پڑتے ہیں،کیونکہ اس جھُوٹ کو سچائی کا رنگ دینا ہوتا ہے۔اس طرح اندر ہی اندر اس کے اخلاقی اور رُوحانی قویٰ زائل ہو جاتے ہیں اور پھر اُسے یہانتک جرات اور دلیری ہو جاتی ہے کہ خداتعالیٰ پر بھی افتراء کر لیتا ہے اور خداتعالیٰ کے مُرسلوں اور مامُوروں کی تکذیب بھی کر دیتا ہے اور خداتعالیٰ کے نزدیک اظلم ٹھہر جاتا ہے۔جیساکے اللہ تعالیٰ نے فرمایاہے من اظلم ممن افتری علی اللہ کذباً اوکذب باٰیٰتہ(الانعام:۲۱)یعنی اُس شخص سے بڑھ کر کون ظالم ہو سکتا ہے جو اللہ تعالیٰ پر جھوٹ اور افترا باندھے یا اس کی آیات کی تکذیب کرے۔یقینا یاد رکھو کہ جھوت بہت ہی بُری بلا ہے جو انسان کو ہلاک کر دیتا ہے۔اس سے بڑھ کر جھوٹ کا خطرناک نتیجہ اور کیا ہو گا کہ انسان خدا تعالیٰ کے مرسلوں اور اُس کی آیات کی تکذیب کر کے سزا کا مستحق ہو جاتا ہے۔پس تمھارے لیے یہ ضروری بات ہے کہ صدق اختیار کرو۔ صدق کے متعلق حضرت سید عبدالقادر جیلانی کا واقعہ حضرت سید عبدالقادر جیلانی رحمتہ اللہ علیہ کے  ذکر میں درج ہے کہ جب وہ اپنے گھر سے طلب علم کے لیے نکلے،تو آپ کی والدہ صاحبہؓنے ان کے حصہ کی اسی اشرفیاں اُن کی بغل کے نیچے پیراہن میں سی دیں اور یہ نصیحت کی کہ بیٹاجھُوٹ ہر گز نہ بولنا۔حضرت سید عبدالقادر جب گھر سے رخصت ہوئے،تو پہلی ہی منزل میں ایک جنگل میں سے اُن کا گزر ہوا۔جہاں چوروں اور قزاقوں کا ایک بڑا قافلہ رہتا تھا۔جہاں اُن کو چوروں کا ایک گروہ ملا۔اُنھوں نے آپؒ کو پکڑکر پُوچھا کہ تمھارے پاس کیا ہے؟آپؒنے دیکھا کہ یہ توپہلی ہی منزل میںامتحان درپیش آیا۔اپنی والدہ صاحبہؓ کی آخری نصیحت پر غور کی اور فوراًجواب دیا کہ میرے پاس اسی اشرفیاںہیں جو میری بغل کے نیچے میری والدہ صاحبہ نے سی دی ہیں۔وہ چوریہ سُن کر سخت حیران ہوئے کہ یہ فقیر کیا کہتاہے!ایساراستباز ہم نے کبھی نہیں دیکھا۔وہ آپ کو پکڑ کر اپنے سردار کے پاس لے گئے اور سارا قصہ بیان کیا۔اس نے بھی جب آپؒ سے سوال کیا۔تب بھی آپؒ نے وہی جواب دیا۔آخر جب آپ کے پیراہن کے اس حصہ کو پھاڑ کر دیکھا گیا،توواقعی اس میں اسی اشرفیاں موجود تھیں۔اُن سب کو حیرانی ہوئی۔اس پر اُن کے سردار نے پوچھا کہ یہ کیا بات ہے۔اس پر آپؒ نے